.

اسلام مخالف گیرٹ وائیلڈرز کا ترک ریفرینڈم کی مہم پر پابندی کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ڈچ قوم پرست رکن پارلیمان گیرٹ وائیلڈرز نے کہا ہے کہ وہ ترک عہدہ داروں کی نیدرلینڈز میں دستوری ریفرینڈم کے حق میں سیاسی مہم جوئی پر پابندی عاید کردیں گے۔

ڈچ حکام نے جمعے کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ترک حکام کی روٹر ڈیم میں ریفرینڈم کے حق میں مہم کے سلسلے میں نکالی جانے والی ریلی ’’بلاضرورت‘‘ ہے لیکن انھوں نے اس پر پابندی کے حوالے سے کچھ نہیں کہا تھا۔

گیرٹ وائیلڈرز نے اتوار کے روز ایمسٹرڈیم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ڈچ وزیراعظم مارک روٹ کا ردعمل بہت کمزور ہے۔میں اس سے مختلف اقدام کروں گا‘‘۔

انھوں نے کہا: ’’ میں ترکی کی تمام کابینہ کو ناپسندیدہ قرار دے دوں گا‘‘۔انھوں نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کو ’’اسلامو فاشسٹ‘‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ان کی ترکی میں آئین میں تبدیلی کے لیے کوششوں کی مخالفت کرتے ہیں‘‘۔

ترکی میں پارلیمان کی منظور کردہ آئینی ترامیم پر اپریل میں ریفرینڈم ہوگا۔ترک حکومت دوسرے ممالک میں مقیم اپنے ملک کے شہریوں کی حمایت کے لیے کوشاں ہے۔ مجوزہ آئینی ترامیم کی ریفرینڈم میں منظوری کی صورت میں صدر طیب ایردوآن کو نئے اختیارات حاصل ہوجائیں گے۔ وہ وزراء اور اعلیٰ سرکاری عہدہ داروں کے تقرر کے مجاز ہوں گے،پارلیمان کو تحلیل کرسکیں گے ،ایمرجنسی کا نفاذ اور صدارتی فرامین جاری کرسکیں گے۔

گیرٹ وائیلڈرز کی فریڈم پارٹی ملک میں 15 مارچ کو ہونے والے عام انتخابات میں کامیابی کے لیے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مہم چلا رہی ہے۔وہ مسلم تارکین وطن کے لیے سرحدیں اور ملک میں مساجد بند کرنے پر زور دے رہی ہے اور اس طرح ملک کے انتہا پسند ووٹروں کی حمایت کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ اس کا وزیراعظم روٹ کی قدامت پسند وی وی ڈی پارٹی کے ساتھ کانٹے کا مقابلہ ہے۔ مبصرین کے مطابق وائلڈرز کی جماعت کو حکمران جماعت پر برتری حاصل ہے۔