.

ایران: جوہری مذاکرات کار پر جاسوسی کے الزام میں فردِ جرم عاید

ایرانیوں کو امریکا لے جانے اور اقامت دلانے کے فراڈ میں ملوّث ایرانی،امریکی گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں جوہری مذاکراتی ٹیم کے گذشتہ سال گرفتار کیے گئے ایک رکن پر جاسوسی کے الزام میں فرد جرم عاید کردی گئی ہے جبکہ لوگوں کو جھانسا دے کر بیرون ملک لے جانے کے فراڈ میں ملوّث ایک ایرانی،امریکی شہری کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ایرانی عدلیہ کی ویب سائٹ میزان نے عدلیہ کے ترجمان غلام حسین محسنی اعجئی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ حکام نے مذاکراتی ٹیم کے رکن دُہری شہریت کے حامل اس شخص پر باضابطہ طور پر فرد جرم عاید کردی ہے۔چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات میں شریک اس رکن کو گذشتہ سال اگست میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

تب محسنی اعجئی نے کہا تھا کہ یہ شخص ایک جاسوس تھا جو جوہری مذاکراتی ٹیم میں در اندازی میں کامیاب ہوگیا تھا۔تاہم انھوں نے اس مدعا علیہ کے بارے میں مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی تھی۔بعض میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ گرفتار شخص ایرانی نژاد کینیڈین شہری ہے۔

محسنی اعجئی نے صحافیوں کو ایک بے نامی ایرانی امریکی کی گرفتاری کی بھی اطلاع دی ہے۔اس کو ایرانیوں کو امریکا کی اقامت دلانے کے بدلے میں 26 لاکھ ڈالرز سے محروم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ڈیڑھ ایک سال کے دوران میں امریکا ،برطانیہ اور کینیڈا کی شہریت کے حامل متعدد افراد کو ایران میں جاسوسی اور دوسرے الزامات میں گرفتار کیا گیا ہے لیکن ایران ایسے افراد کی دُہری شہریت کو تسلیم نہیں کرتا ہے ،اس طرح وہ غیرملکی سفارت خانوں کو ان تک رسائی کی اجازت بھی نہیں دیتا ہے اور وہ ان کی کسی طرح کی کوئی قانونی یا سفارتی امداد نہیں کرسکتے ہیں۔