.

حوثی باغیوں نے اقوام متحدہ کی ٹیم کو صنعا میں داخلے سے روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی ملیشیا نے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی ایک اور خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے اور انھوں نے اقوام متحدہ کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کو دارالحکومت صنعا اور اپنے زیر قبضہ دوسرے علاقوں میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی ٹیم کے رابطہ کار احمد ہمیش نے عدن میں یمنی وزیراعظم احمد عبید بن دغر سے ملاقات کی ہے اور اس کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا وفد شہریوں کی زندگیوں پر جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتب ہونے والے براہ راست اثرات کا جائزہ لینا چاہتا ہے تا کہ وہ اقوام متحدہ کو یمن کی تازہ صورت حال سے آگاہ کرسکے۔

دریں اثناء یمن کے وسطی شہر تعز میں حوثی ملیشیا اور ان کے اتحادی معزول صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فورسز کے حملے میں چودہ شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔حوثیوں نے تعز کے شہری علاقوں کو اپنے حملے میں ہدف بنایا تھا۔

تعز کے شمالی مغربی محاذ سے صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فوج اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔حوثیوں نے شہر کے مشرقی علاقوں میں فوج اور مزاحمتی فورسز پر حملہ کیا تھا جس کے بعد ان کے درمیان شدید لڑائی شروع ہوگئی۔

واضح رہے کہ حوثی باغیوں نے چند روز قبل اقوام متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ اسٹیفن او برائن اور ان کی قیادت میں گاڑیوں کے قافلے کو تعز شہر کے محاصر زدہ علاقوں میں جانے سے روک دیا تھا۔

حوثی باغیوں اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فورسز نے گذشتہ دو سال سے تعز کا محاصرہ کررکھا ہے جبکہ شہر پر یمنی صدر منصور ہادی کی وفادار فورسز کا کنٹرول ہے۔ اسٹیفن او برائن کی سربراہی میں وفد تعز کی زمینی صورت حال کا جائزہ لینا چاہتا تھا۔