.

اسرائیل کی ایرانی میزائلوں سے اوجھل رہنے والے طیارے خریدنے کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج امریکا کے ساتھ دو بڑے معاہدوں کی تیاری کر رہی ہے۔ ان معاہدوں میں موجودہ فضائی بیڑے کی تجدید کے لیے جدید ترین طیاروں اور نقل و حمل میں استعمال ہونے والے ہیلی کاپٹروں کی خریداری شامل ہے۔

اسرائیلی فوج نے اپنی فضائیہ میں مزید دو قسم کے طیاروں کے اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ طیارے دسمبر میں اسرائیل پہنچے ہیں۔ امریکا کے ساتھ عسکری ڈیل کی اہمیت اس امر میں پوشیدہ ہے کہ F-35 طیارے دوران پرواز ایران کے پاس موجود طیارہ شکن میزائل نظام کی زد میں نہیں آ سکتے ، ان میں روس سے حاصل کیا جانے والا S-300 نظام بھی شامل ہے۔

مذکورہ ڈیل کا زیادہ تر حصہ امریکی امداد کے ضمن میں ادا کیا جائے گا جو اس سے قبل بڑی حد تک F-35 لڑاکا طیاروں اور میزائلوں کی ذخیرہ اندوزی کے منصوبے کے لیے مختص کر دی گئی تھی۔ اس کی مالیت 33.3 ارب اسرائیلی شیکل یعنی نو ارب ڈالر کے قریب ہے۔

منگل کے روز امریکی ہوا بازوں کو F-35 طیاروں کو لے کر اسرائیل کی جانب اڑان بھرنے کی اجازت دے دی گئی جہاں بڑے پیمانے پر اس خوشی کے موقع کو منانے کی تیاریاں کی گئی تھیں۔ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں F-35 طیاروں کے منصوبے کی بھاری لاگت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس ٹوئیٹ نے عسکری صنعت کے میدان میں دنیا کی سب سے بڑی کمپنی کے عملے کو حیران کر ڈالا جو اسرائیل میں براعم کے فوجی اڈے پر طیاروں کی آمد کی خوشی منانے کی تقریب کے سلسلے میں موجود تھے۔

واضح رہے کہ طیاروں سے متعلق ڈیل واشنگٹن میں اسرائیلی وزیر دفاع ایوگڈور لیبرمین کی ملاقاتوں کے ایجنڈے میں شامل ہے۔