.

انتقام کا خوف، بیرون ملک ایرانی حکومت کے خلاف بولنے سے گریزاں!

ایران میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں بدستور جاری ہیں: یو این

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں اقوام متحدہ کی جانب سے انسانی حقوق کی نگران عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ بیرون ملک مقیم اپوزیشن رہ نماؤں کو خدشہ ہے کہ اگر وہ تہران سرکار کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں گے تو اس کے نتیجے میں اندرون ملک موجود ان کے اہل خانہ کو انتقام کو نشانہ بنایا جائے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عاصمہ جہانگیر نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایران میں حقوق انسانی کی پامالیوں کی تفصیلات پر مبنی 40 صفحا کو محیط ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بیرون ملک موجود ایرانی اپوزیشن رہ نما اور سماجی کارکن کھل کر ایران کے خلاف بات نہیں کرتے۔ انہیں ڈر ہے کہ اگر وہ ایرانی حکومت کے خلاف کوئی بات کریں گے تو اس کے نتیجے میں اندرون ملک مقیم ان کے اہل خانہ کو انتقام کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

عاصمہ جہانگیر نے اپنی رپورٹ میں ایران میں انسانی حقوق کی ابتر صورت حال پر افسوس کا اظہار کیا۔ جنیوا میں منعقدہ انسانی حقوق کونسل کے 34 ویں اجلاس کے دوران پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں انہوں نے کہا کہ ایرانی اپوزیشن انتقام کے خوف سے زبان کھولنے سے گریز کرتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے اندر سے ملنے والی معلومات انسانی حقوق کی صورت حال میں بہتری کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے۔ ایرانی عدلیہ، وکلاء، آزادی اظہار رائے، ظالمانہ گرفتاریاں بدستور اقوام متحدہ کے لیے باعث تشویش ہیں۔\

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی یو این مندوب کا کہنا ہے کہ رپورٹ کی تیاری کے لیے انہوں نے بیرون ملک مقیم ایرانی اپوزیشن کے رہ نماؤں سے رابطے کیے۔ ان میں سے بیشتر ایرانی حکومت کے خلاف کوئی بات کہنے سے ڈرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ حکومت کے خلاف کوئی بات کہتے ہیں تو اس کے نتیجے میں ایران میں موجود ان کے اہل خانہ اور دیگر اقارب کو انتقامی پالیسی کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔