.

تہران پر پابندیوں کی خلاف ورزی، چینی کمپنی پر ایک ارب ڈالر جرمانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت انصاف نے منگل کی شام جاری ایک بیان میں چین کی کمپنیZTE پر ایک ارب ڈالر سے زیادہ جرمانہ عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مذکورہ کمپنی پر ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے کا الزام ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹیلی کوم آلات تیار کرنے والی چین کی دوسری بڑی کمپنی ایران کو ساز و سامان اور ٹکنالوجی فروخت کر کے امریکی قوانین کی خلاف ورزی کی مرتکب ٹھہری۔

امریکی وزارت انصاف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ "ZTE کمپنی نے گزشتہ برسوں کے دوران تہران کے ساتھ اپنے معاملات کو چھپانے کی کوشش کی۔ کمپنی نے نہ صرف امریکا کے دشمن ملک ایران کو حساس نوعیت کی امریکی ٹکنالوجی برآمد کی بلکہ اس حوالے سے تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کی بھی پوری کوشش کی"۔

وزارت انصاف کے فیصلے کی بنیاد پرZTE کمپنی کی سرگرمیوں کو تین برس تک امریکی وزارت کے زیر نگرانی رکھا جائے گا۔

اس سے قبل جنوری 2016 میں چین کی مذکورہ کمپنی کے ذمے داران نے تہران کا دورہ کر کے وہاں سے اعلان کیا کہZTE موبائل فون اور ٹیلی کمیونی کیشن کے میدان میں کام کرنے کے لیے ایرانی منڈی میں داخل ہو گی۔ تاہم اس اعلان کے بعد سامنے آنے والا امریکی انتباہ.. چینی کمپنیZTE اور ایرانی کمپنی "ياس جہان" کے درمیان تعاون کے سلسلے میں طے پائے جانے والے معاہدے کو منسوخ کرنے کا عامل بن گیا۔

یاد رہے کہ امریکی وزارت تجارت نے 2012 میں انکشاف کیا تھا کہZTE نے ایران کی ایک موبائل کمپنی کو لاکھوں ڈالر مالیت کے جدید ترین آلات اور ساز و سامان برآمد کیا ہے جن کے بعض آلات کو تہران نے ایرانی شہریوں کی یومیہ کالوں کی جاسوسی کے لیے استعمال کیا۔