.

رنا القصیبی اور حسین فہمی کے درمیان طلاق کی وجوہات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے معروف فن کار حسین فہمی اور اس کی سعودی بیوی کاروباری شخصیت رنا القصیبی کے درمیان خلع کے لیے دی گئی درخواست پر حتمی فیصلہ آگیا ہے جس کے بعد دونوں میں قانونی طور پر طلاق ہوگئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حسین فہمی کی سعودی اہلیہ رنا القصیبی نے 6 اکتوبر 2016ء کو قاہرہ کی ایک فیملی عدالت میں خلع کے لیے درخواست دی تھی۔

اپنی اس درخواست میں اس نے لکھا ’شادی کے بعد حسین فہمی کی جو حقیقت میرے سامنے آئی شادی سے قبل میں اس سے واقف نہیں تھی۔ شادی سے قبل وہ میرے سامنے ایک خوش طبع، انسان دوست، اعلیٰ حسب ونسب، حقوق فرائض سے آگاہ اور خیر سگالی کے سفیر کے سفیر تھے اور انہی خوبیوں کی بناء پرمیں نے ان سے شادی کا فیصلہ کیا تھا‘۔

القصیبی نے بتایا کہ اس کے گھر والے اس رشتے پر راضی نہیں تھے۔ بہت مشکلوں سے میں نے انہیں راضی کیا۔ جب شادی ہوگئی اور حسین فہمی اور دوسرے شخص کے روپ میں میرے سامنے آئے تو میں حیران رہ گئی۔ ان کی اس مشکل، پیچیدہ طبیعت، مزاج اور ناپسندیدہ رویے سے کوئی بھی آگاہ نہیں تھا۔ میں نہیں نرم مزاج اور حسن اخلاق کی خوبیوں کا مالک سمجھ رہی تھی۔ مگر شادی کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ ایک ایسے شخص کے ساتھ زندگی بسر کرنا ناممکن ہے۔ وہ مسلسل اس پر ہاتھ اٹھاتے اور طعن و ملامت کرتے۔ مجھے ان سے بہت حد تک نفسیاتی اذیت پہنچنے کا خدشہ تھا جس کی بناء پر میں نے خلع لینے کا فیصلہ کیا۔ شادی کے بعد انہوں نے میرا نان نفقہ تک یہ کہہ کر روک دیا تھا کہ ان کے مالی حالات اچھے نہیں ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں رنا القصیبی نے بتایا کہ اس نے حسین فہمی کے ساتھ زندگی بسر کرنے اور شکایات دور کرنے کے لیے ہرممکن کوشش کی۔ مگر مجھے فہمی کی طرف سے یکے بعد دیگرے پہنچنے والی اذیتوں کا سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ 30 مارچ 2016ء کو انہوں نے مجھے گھر سے نکال دیا۔ سعودی عرب کے شرفاء میں اس طرح کا چلن قابل قبول نہیں ہوتا۔ اس لیے میں نے حدود اللہ کی پاسداری نہ کیے جانے کےخوف سے خلع کی درخواست دے دی۔