.

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کا نیا امن منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں سیاسی ذرائع نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد یمن کے بحران کے حل اور مذاکرات کی جانب واپس لوٹنے کے لیے ایک نیا ترمیم شدہ امن منصوبہ پیش کریں گے۔ مذکورہ ذرائع کے مطابق نیا متبادل امن منصوبہ متعدد نکات کا حامل ہوگا جن میں نمایاں اور اہم ترین یہ ہیں :

1۔ یمنی صدر عبدربہ منصور ہادی کا پورے اختیارات کے ساتھ عبوری مرحلے تک باقی رہنا

2۔ نائب صدر کے عہدے کا خاتمہ جس پر اس وقت جنرل علی محسن الاحمر کام کر رہے ہیں

3۔ ایک قومی حکومت کی تشکیل جو مکمل اختیارات کی حامل ہو

4۔ حضر موت میں موجود عسکری بریگیڈز کے صنعاء منتقل ہو جانے کے بعد حوثی جماعت کا اپنے ہتھیار حوالے کر دینا

ذرائع کا کہنا ہے کہ ولد الشیخ اپنے حالیہ دورے میں یمنی فریقوں کو جو ترامیم پیش کریں گے وہ سلامتی کونسل کی قرار داد 2216 پر اس کی تمام شقوں کے ساتھ عمل درامد کا طریقہ کار اور روڈ میپ ہے۔ علاوہ ازیں ان ترامیم کو اُس براہ راست بات چیت میں زیر بحث لایا جائے گا جس کا مقام اور وقت جلد متعین کر دیا جائے گا۔

اسماعیل ولد الشیخ احمد جمعرات یا ہفتے کے روز یمنی صدر عبدربہ منصور ہادی سے ریاض میں ملاقات کریں گے۔ اس سے قبل ان کی ریاض میں مغربی سفارت کاروں اور سعودی ذمے داران کے ساتھ بھی ملاقاتیں ہوں گی۔

یاد رہے کہ یمنی حکومت اور صدر ہادی نے اس سے قبل ولد الشیخ کی جانب سے پیش کیا جانے والا امن منصوبہ اس بنیاد پر مسترد کر دیا تھا کہ یہ منصوبہ سلامتنی کونسل کی قرار دادوں ، خلیجی منصوبے اور قومی مکالمے کی کانفرنس کے اعلامیے کے نکات سے تجاوز کر رہا ہے۔ یمنی حکومت مذکورہ امور کو حوثی باغیوں کے ساتھ کسی بھی بات چیت کی بنیاد شمار کرتی ہے۔

ادھر یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد گزشتہ رات سعودی دارالحکومت ریاض پہنچے۔ ان کا حالیہ دورہ مشاورت کے دوبارہ آغاز کی کوششیں جاری رکھنے کے سلسلے میں ہے۔ اسی دوران یمنی صدر عبدربہ منصور ہادی بھی ریاض پہنچ چکے ہیں۔