.

"اسے شام سے نکالا جائے".. امریکا کا ایران کو لگام دینے کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نے شام میں ایرانی رسوخ کو لگام دینے کی بالواسطہ طور پر دھمکی دی ہے۔ امریکی خاتون مندوب نیکی ہیلی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اقوام متحدہ کے زیر قیادت شام کی امن بات چیت کو سپورٹ کرتا ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ شام کو "دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ" نہیں رہنے دیا جا سکتا اور اہم بات یہ ہے کہ "ایران اور اس کے ایجنٹوں" کو وہاں سے باہر نکالا جائے۔ ہیلی نے یہ بات بدھ کے روز صحافیوں سے گفتکو کرتے ہوئے کہی۔

امریکی مندوب نے اس بات کا تو جواب نہیں دیا کہ آیا ان کا ملک روس اور ایران کے حمایت یافتہ بشار الاسد کی سبک دوشی کو ضروری سمجھتا ہے.. تاہم انہوں نے باور کرایا کہ "امریکا اسٹیفن ڈی میستورا اور ان کے مشن کو مکمل سپورٹ کرتا ہے، ہم اقوام متحدہ کی کاررواءی اور جنیوا میں بات چیت کو سپورٹ کرتے ہیں اور اس کے جاری رہنے کی خواہش رکھتے ہیں"۔ ہیلی کا کہنا تھا کہ "معاملے کا تعلق اب بڑی حد تک سیاسی حل کے ساتھ ہے۔ بنیادی طور پر اس کا مطلب ہوا کہ اب شام دہشت گردوں کی آماج گاہ نہیں رہنا چاہیے اور ہم پر لازم ہے کہ ایران اور اس کے ایجنٹوں کو نکالنے کے لیے کام کریں"۔

امریکا کی جانب سے شام میں " Howitzer" آرٹلری بیٹری

دوسری جانب شام کے منظر نامے میں گزشتہ چند روز کے دوران امریکی مداخلت کو زیادہ "فعّال" دیکھا گیا ہے۔ اس سلسلے میں "ڈیموکریٹک سیریئن فورسز" کے لیے امریکی سپورٹ سامنے آئی ہے اور اس کے علاوہ امریکا نے شام میں میرین فورس کے لیے آرٹلری بیٹری بھی فراہم کی ہے تاکہ الرقہ شہر میں داعش کے گڑھ پر حملے میں معاونت ہو سکے۔

امریکی عسکری ذمے دار نے بدھ کے روز بتایا کہ امریکی میرینز کے یونٹ 11 کے فوجی اہل کاروں نے شام میں فرنٹ لائن کے ایک مرکز پر 155 ایم ایم کی " Howitzer" بیٹری کو تعینات کیا ہے۔