.

برطانوی شہریوں کی وائیٹ ہاؤس کے وزٹ پر پابندی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے زمام اقتدار ہاتھ میں لیتے ہی سات مسلمان ملکوں کے باشندوں کا امریکا میں داخلہ بند کردیا جس پر انہیں اندرون اور بیرون ملک سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ کو تنقید کی کوئی پروا نہیں۔ وہ کسی بھی دوسرے ملک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے کو روک سکتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ان دنوں تازہ اطلاعات یہ سامنے آئی ہیں کہ ڈونلڈ برطانوی شہریوں کے وائیٹ ہاؤس میں وزٹ کے حامی نہیں ہیں۔ اس لیے برطانیہ سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے وائیٹ ہاؤس کا وزٹ کرنے کی سہولت فی الحال ختم ہے۔

امریکی حکومت کی طرف سے واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی غیرملکی شہری وائیٹ ہاؤس کا وزٹ کرنا چاہے تو اسے واشنگٹن میں موجود اپنے سفارت کانے کے ذریعے درخواست دینا ہوگی۔ سفارت خانہ امریکی حکام سے رابطہ کرے جس کے بعد درخواست گذار کو 45 منٹ کے وزٹ کی اجازت دی جاسکتی ہے۔

بدھ کے روز اچانک امریکا کے اسکولوں کے 100 طلباء طالبات وائیٹ ہاؤس میں آدھمکے۔ اگرچہ اس وزٹ میں صدر سے ملاقات شامل نہیں ہوتی۔ تاہم اتنی بڑی تعداد میں طلباء کی آمد ٹرمپ کے لیے پریشانی کا موجب بنی۔

واشنگٹن میں قائم برطانوی سفارت خانے نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ برطانوی سفارت خانہ فی الحال اپنے ملک کے شہریوں کو وائیٹ ہاؤس کی سیر کی سہولت فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کے کسی شہری کو وائیٹ ہاؤس کا وزٹ کرانے کی اجازت نہیں ہے اور یہ سلسلہ غیر معینہ مدت تک بند ہے۔

برطانوی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ امریکی حکام کی طرف سے انہیں بتایا گیا ہے کہ وہ فی الحال اپنے شہریوں کی وائٹ ہاؤس کی سیر کا سلسلہ روک دے۔

اس کے ساتھ ساتھ سفارت خانے کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں کسی برطانوی باشندے کی طرف سے وائیٹ ہاؤس کی سیر کی درخواست موصول بھی نہیں ہوئی ہے۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا امریکی حکومت نے برطانوی شہریوں کی وائیٹ ہاؤس تک رسائی کیوں روکی ہے۔

ممکن ہے اس پابندی کے پیچھے گذشتہ ماہ برطانیہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت میں ہونے والے عوامی مظاہرےہوں کیونکہ پناہ گزینوں کی امریکا میں داخلے پرپابندی عاید کیے جانے کے بعد برطانیہ میں ہزاروں افراد نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف جلوس نکالے تھے۔

برطانوی دارالعوام کے چیئرمین جون بیرکو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ کے متوقع دورہ برطانیہ کے دوران انہیں برطانوی پارلیمنٹ سے خطاب کی اجازت نہیں دیں گے۔