.

ٹرمپ کے معاملے میں ایرانی رجیم میں شدید اختلافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں گذشتہ 20 جنوری کو حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی واشنگٹن نے ایران بارے اپنی پالیسی واضح کردی تھی تاہم ایرانی رجیم کئی ماہ گذر جانے کے باوجود امریکا سے متعلق پالیسی بنانے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی مرتب کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ امریکا کے بارے میں ایرانی رجیم میں پائے جانے والے شدید اختلافات ہیں جو تہران سرکار کو واشنگٹن کے بارے میں کوئی واضح اور دو ٹوک پالیسی بنانے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بہت سے ایرانی سیاست دان ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے سے قبل ہی اس خدشے کا اظہار کرچکے تھے کہ ٹرمپ ممکنہ طور پر صدر بن سکتے ہیں۔ اگر وہ صدر بن گئے تو وہ ایران کے خلاف سخت پالیسی اپنائیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ چونکہ چھ عالمی طاقتوں اور ایران کےدرمیان طے پائے تہران کے جوہری معاہدے کے بھی سخت ناقد اور خلاف رہے ہیں۔ یہی وجہ ہےکہ وہ اس معاہدے پر نظر ثانی کا مطالبہ کرچکے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ایگزیکٹو آرڈر میں جن سات مسلمان ملکوں کے باشندوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عاید کی ان میں ایران سر فہرست تھا۔ امریکی حکومت کی طرف سے واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ایران دنیا بھر میں دہشت گرد گروپوں کی پشت پناہی کررہا ہے۔

دوسری جانب ایرانی رجیم ڈونلڈ ٹرمپ کے معاملے میں مسلسل مخمصے کا شکار ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کی طرف سے توقع ظاہر کی گئی تھی کہ امریکی صدارتی انتخابات میں ہیلری کلنٹن کامیاب ہوں گی۔ مگر ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی نے ایرانیوں کو ورطہ حیرت اور خوف میں مبتلا کردیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں اختلافات میں شدت کا اظہار ایران کی قومی سلامتی کے سیکرٹری محسن رضائی کے اس بیان سے بھی ہوتا ہے جس میں انہوں نے صدر حسن روحانی کی امریکا بارے پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اپنےایک بیان میں محسن رضائی نے صدر حسن روحانی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ[حسن روحانی] ڈونلڈ ٹرمپ کی انتقامی پالیسیوں سے نمٹنے کے لیے کوئی ٹھوس اور مربوط جوابی حکمت عملی وضع کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کی موجودہ خارجہ پالیسی بالخصوص امریکا سے متعلق پالیسی غیر معقول اور نا مناسب ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی طرف سے ٹرمپ کے جارحانہ اقدامات کے جواب میں ٹھوس رد عمل ظاہر نہ کرنے سے ایران کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے۔ ایران کو امریکی انتظامیہ کے سامنے اپنی کمزوری کے تاثر کو اجاگر نہیں کرنا چاہیے۔

محسن رضائی نے اخبارات میں لکھے مضمون ’ٹرمپ اوباما نہیں’ کےعنوان سے لکھا ہے کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی سے ہم پریشان نہیں ہوئے۔ یہ درست ہے مگر یہ بھی ضروری ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایرانی قوم بارے پالیسی کو حوصلہ افزاء قرار دینے کے بجائے سیاسی اور سفارتی محاذ پر ان اقدامات کا مقابلہ کیا جائے۔

انہوں نے امریکا بارے موثر حکمت عملی اختیار نہ کرنے پر صدر حسن روحانی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ صدر کو اپنی غلطی تسلیم کرنی چاہیے۔