.

سفارتی کشیدگی: ترکی کی نیدرلینڈز کو بھاری قیمت چکانے کی دھمکی

ترک مظاہرین نے استنبول میں ڈچ قونصل خانے سے پرچم اتار پھینکا، انقرہ میں سفارت خانے پر پتھراؤ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی اور نیدر لینڈز کے درمیان سفارتی کشیدگی مزید شدت اختیار کرگئی ہے اور ترکی نے اپنے دو وزراء کو روٹرڈیم میں ریلیوں سے خطاب کی اجازت نہ دینے اور انھیں واپس بھیجنے پر نیدرلینڈز کو سخت جوابی اقدام اور بھاری قیمت چکانے کی دھمکی دی ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ’’ مغرب میں اب بھی نازی ازم ہر کہیں موجود ہے‘‘۔انھوں نے استنبول میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اگر آپ ترک ،ڈچ تعلقات کو بدھ کو ہونے والے انتخابات کی نذر کرسکتے ہیں تو پھر آپ کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی‘‘۔

’’ میں یہ خیال کرتا تھا کہ نازی ازم مر چکا ہے لیکن میں غلط تھا۔مغرب میں نازی ازم اب بھی ہر کہیں موجود ہے۔مغرب نے اس کا حقیقی چہرہ دکھا دیا ہے‘‘۔ ان کا مزید کہنا تھا۔

ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم نے بھی نیدرلینڈز کے خلاف سخت بیان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ ترکی سخت ترین طریقے سے ڈچ حکومت کا جواب دے گا جبکہ ڈچ وزیراعظم مارک روٹ نے کہا ہے کہ وہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کوشاں ہیں لیکن ان کی حکومت ترکی کے مطالبے پر معافی نہیں مانگے گی۔

قبل ازیں استنبول میں مشتعل ترک مظاہرین نے ڈچ قونصل خانے پر لگے نیدر لینڈز کے پرچم کو اتار پھینکا اور اس کی جگہ مختصر وقت کے لیے اپنے ملک کا پرچم آویزاں کردیا تھا۔ترک صدر کے حامی مظاہرین نے دارالحکومت انقرہ میں بھی ڈچ سفارت خانے کے باہر مظاہرہ کیا اور اس کی عمارت پر انڈے پھینکے اور پتھراؤ کیا۔

ترک وزیرخارجہ مولود شاوس اوغلو کے طیارے کو نیدر لینڈز میں اترنے کی اجازت نہ دینے پر ترک شہریوں میں شدید غم وغصہ پایا جارہا ہے۔ڈچ حکام نے ان کے بعد ترکی کی خاندانی امور کی وزیر فاطمہ بتول صيان قايا کو بھی پولیس کی معیت میں زبردستی جرمنی واپس بھیج دیا ہے۔

نیدرلینڈز نے ترک خاتون وزیر کو ملک کے دورے کی کوشش کی بنا پر ’’ غیر ذمے دار‘‘ قرار دیا ہے اور ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں پہلے یہ مطلع کر دیا گیا تھا کہ ان کا ملک میں خیرمقدم نہیں کیا جائے گا مگر اس کے باوجود انھوں نے دورے کی کوشش کی ہے۔ڈچ حکومت نے ترک عہدہ داروں کے زبانی حملوں کو بھی ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

ڈچ حکومت نے ترک وزیر فاطمہ بتول کو روٹر ڈیم میں دستوری ریفرینڈم کے حق میں ریلی سے خطاب کی اجازت نہیں دی ہے اور انھیں اس سے کئی گھنٹے قبل ہی زبردستی ملک سے جرمنی بے دخل کردیا تھا۔ روٹر ڈیم میں ترک قونصل خانے کے باہر لوگوں کی بڑی تعداد ان کی تقریر سننے کے لیے جمع تھی۔ ڈچ پولیس نے انھیں منتشر کرنے کے لیے کتوں کا استعمال کیا ہے،ان پر پانی پھینکا ہے اور لاٹھی چارج کیا ہے جس سے متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے ہیں۔

ڈچ حکومت نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ وہ ترک حکام کے ساتھ مل کر اس مسئلے کے کسی قابل قبول حل کی تلاش کے لیے کوشاں تھی لیکن ترک عہدہ داروں کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات کے بعد کوئی معقول حل ناممکن ہوگیا ہے۔

ڈچ حکومت نے ہفتے کے روز ترک وزیر خارجہ مولود شاوس اوغلو کے طیارے کے ملک میں اترنے کے لیے جاری کردہ اجازت نامہ واپس لے لیا تھا اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ’’اس نے ترک وزیرخارجہ کے روٹر ڈیم کے دورے کے موقع پر نقضِ امن اور سلامتی کو درپیش ممکنہ خطرے کے پیش نظر اجازت نامہ واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے‘‘۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ڈچ حکومت کے اس فیصلے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ ترکی میں آنے والے ڈچ سفارتی طیاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔انھوں نے کہا:’’ وہ ( ڈچ ) سیاست یا بین الاقوامی سفارت کاری کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔وہ نازیوں کی باقیات اور فاشسٹ ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ نیدرلینڈز میں قریباً چار لاکھ ترک تارکین وطن رہ رہے ہیں۔ ترک حکومت 16 اپریل کو ہونے والے دستوری ریفرینڈم کے حق میں اندرون اور بیرون ملک مہم چلا رہی ہے اور وہ یورپ میں مقیم ترک تارکین وطن کی حمایت کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔اس سلسلے میں ترک وزراء یورپی شہروں میں ریلیاں منعقد کررہے ہیں جبکہ نیدرلینڈز سے قبل جرمنی نے بھی ترک تارکین وطن کی ریلیوں کے انعقاد پر پابندی عاید کر دی تھی۔