.

میں کوئی ڈاکیا نہیں.. سوئس سفیر نے ایران کو یہ جواب کیوں دیا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تہران میں سوئٹزرلینڈ کے سفارت خانے نے سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کا پیغام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پہنچانے سے انکار کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ سوئس سفارت خانہ گزشتہ 37 برس سے ایران میں امریکی امور کی نمائندگی کر رہا ہے۔

روزنامہ "عصرِ ايران" نے ایرانی وزارت خارجہ کے ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ تہران میں سوئس سفیر نے ایرانی وزارت خارجہ کو باور کرایا ہے کہ وہ امریکی امور کی نمائندگی ضرور کرتے ہیں تاہم کوئی "ڈاکیا" نہیں ہیں۔

ذرائع نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ احمد نژاد کا ٹرمپ کے نام خط سابق ایرانی صدر کو واپس کر دیا گیا ہے کیوں کہ یہ سفارتی اصولوں کے مخالف ہے۔ اس بات کا غالب گمان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ سفارتی معیار پر پورا نہ اترنے کے سبب اگست 2016 میں احمدی نژاد کی طرف سے سابق امریکی صدر باراک اوباما کو ارسال کیے جانے والے خطوط بھی وہائٹ ہاؤس نہیں پہنچے ہیں۔

احمدی نژاد نے 26 فروری کو ٹرمپ کے نام اپنے خط میں امریکی سیاسی نظام میں اصلاح کا مطالبہ کرتے ہوئے زور دیا تھا کہ امریکی کی قیادت میں خواتین کو شریک ہونے کی اجازت دی جائے۔ سوشل میڈیا پر ایرانی حلقوں کی جانب سے اس خط کا بہت مذاق اڑایا گیا۔ نژاد کی ویب سائٹ پر انگریزی اور فارسی زبان میں شائع ہونے والے اس خط کو "بیزار کُن" قرار دیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں ایرانی مجلس شوری (پارلیمنٹ) کے اعتدال اور اصلاح پسند بلاکوں کے ارکان نے نژاد کی جانب سے عالمی سربراہوں کو بھیجے جانے والے ان خطوط پر اعتراض کا اظہار کیا گیا اور انہیں سفارتی اور قانونی ضوابط اور معیار کے خلاف قرار دیا۔

محمود احمدی نژاد اپنے حالیہ 13 صفحات کے خط سے قبل 2006 میں سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کو 18 صفحات کا خط ارسال کر چکے ہیں جس کا انہیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ علاوہ ازیں احمدی نژاد اس سے قبل جرمن چانسر انگلا مرکل ، ویٹیکن پوپ اور سابق امریکی صدر باراک اوباما کو بھی اسی طرح کے خطوط ارسال کر چکے ہیں۔