.

وزیرخارجہ کے بعد ہالینڈ نے ترک خاتون وزیر کو بھی روک لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہالینڈ کی پولیس نے ترکی کی خاتون وزیربرائے عائلی امور کو روٹر ڈام میں داخل ہونےسے روک دیا ہے۔ قبل ازیں ڈچ حکام نے ترکی وزیرخارجہ جاویش اوغلو کا استقبال کرنے اسے انکار کرتے ہوئے ان کی پرواز کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ترک حکومت کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ ہالینڈ کی حکومت نے ترک وزیرہ فاطمہ بتول صیان قایا کو ’ناپسندیدہ غیر ملکی شخصیت‘ قرار دے کر ہالینڈ سے واپس جرمنی بھیج دیا ہے۔

ہالینڈ میں نازیبا رویے کا سامنا کرنے والی ترک وزیرہ فاطمہ بتول نے ’ٹوئٹر‘ پر پوسٹ اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسے روٹر ڈام شہر میں قائم ترک قونصل خانے سے صرف 30 میٹر دور روک لیا گیا۔ پولیس کی طرف سے کہا گیا کہ انہیں ہالینڈ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ اس لیے انہیں اب واپس جانا ہوگا۔

ترک خبر رساں ادارے’اناطولیہ‘ نے ہفتےکے روز خبر دی تھی کہ ترکی کی خاتون وزیر برائے عائلی امور فاطمہ بتول وزیرخارجہ کو روکے جانے کےبعد ہالینڈ کے دورے پر پہنچ رہی ہیں۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق ہالینڈ میں ترکی میں صدراتی ریفرنڈم کی حمایت میں ہونے والے پروگرامات کی منسوخی کےباوجود وزیر فاطمہ بتول دورہ کریں گی جہاں وہ ہالینڈ میں موجود ترک تارکین وطن سے بھی ملاقات کریں گی۔

خیال رہے کہ نیٹو کے رکن ممالک ترکی اور ہالینڈ میں یہ سیاسی اور سفارت کشیدگی ایک ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب دوسری طرف آئندہ ماہ اپریل میں ترکی میں صدارتی نظام کی حمایت میں ریفرنڈم کرایا جا رہا ہے۔

ترک حکومت اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان کچھ عرصے سے الزامات کا تبادلہ جاری ہے۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن متعدد بار یورپی ملکوں کو تنقید کا نشانہ بنا کر انہیں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں قرار دے چکے ہیں۔ انقرہ کا الزام ہے کہ یورپی ممالک ترکی میں علاحدگی پسند کرد ددہشت گردوں کو مالی اور فوجی اسپورٹ کررہے ہیں۔