.

خاتون کے تند وتیزسوالات سے ٹرمپ کے پریس سیکرٹری آگ بگولا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد جہاں سیاسی مخالفین کی جانب سے انہیں سخت ترین سوالات کا سامنا رہتا ہے وہیں صدرکی انتظامیہ میں شامل اہلکاروں کو بھی عوامی مقامات پر سخت مشکل حالات سے واسطہ پڑتا ہے۔

اس کی تازہ مثال ڈونلڈ ٹرمپ کے پریس سیکرٹری شون سپائسر کے ساتھ پیش آنے والے واقعے سے لی جاسکتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گذشتہ ہفتے کے روز وائیٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری شون سپائسر الیکٹرونک آلات کی خریداری کےلیے واشنگٹن کی ایک مارکیٹ میں پہنچے جہاں ایک بھارتی نژاد خاتون نے ان پر تند وتیز سوالات کی بوچھاڑ کرکے انہیں ہکا بکا کردیا۔

بھاری نژاد خاتون 33 سالہ شری چوہان نے جس جرات اور بہادری کے ساتھ وائیٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری پر سوالات کی بوچھاڑ کی اس پر وہ داد تحسین کی مستحق قرار دی جارہی ہے۔ چوہان نے نہ صرف ڈونلڈ ٹرمپ کے پریس سیکرٹری پر سوالات کی بھرمار کردی بلکہ ان کے ساتھ ہونے والی ساری گفتگو کو ’ٹوئٹر‘ کے ذریعے براہ راست نشر بھی کرڈالا۔

بھارتی نژاد سابق معلمہ اور موجودہ این جی او کی ملازمہ نے صدر ٹرمپ کے پریس سیکرٹری کومخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ کو ایک فاشسٹ صدر کے ساتھ کام کرتے ہوئے شرم نہیں آتی؟ کیا آپ روس کے ساتھ مواصلاتی رابطوں میں شریک رہے ہیں؟ امریکی قوم سے جھوٹ بولنے کا آپ کو احساس نہیں ہوا۔ کیا آپ مجرم ہیں۔ کیا آپ اپنے صدر کی طرح بد دیانت شخص ہیں؟۔

شون سپائسر یہ تمام سوالات خاموشی اور زیرلب مسکراہٹ کے ساتھ سنتے رہے۔ انہوں نےخاتون کے تمام سوالات کو سنا مگر ان پر کوئی جذباتی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ انہوں نے خاتون کے تند وتیز سوالات پر بار بار صرف اتنا کہا کہ ’ان کا ملک بہت عظیم ہے جس نے آپ کو یہاں رہنے کی اجازت دی ہے‘۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو اس طرح کے واقعات پر فورا مشتعل ہوجاتے ہیں کی طر ف سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا تاہم امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے مقربین کو عوام الناس کی طرف سے اسی طرح کے سوالات کا سامنا رہتا ہے۔

سوالات کی بوچھاڑ کرنے والی بھارتی نژاد خاتون کا کہنا ہے کہ اسے انٹرنیٹ پر متعدد بار ہراساں کیا گیا اسے وطن واپس لوٹ جانے کے لیے کہا گیا ہے مگراس نے صدر ٹرمپ کے پریس سیکرٹری سے جو سوالات پوچھے ہیں اس پر وہ شرمندہ نہیں۔