.

’وزراء کی توہین‘ ہالینڈ کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے:ترکی

ڈچ حکام کے ہوائی جہاز ترکی میں نہیں اترنے دیں گے:نائب وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے نائب صدر نعمان کورتولموش نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک ہالینڈ حکومت کو سخت تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ڈچ حکام نے ہمارے وزراء کےساتھ جو طرز عمل اپنایا اسے کسی صورت میں جمہوری قرارنہیں دیا جاسکتا۔ انقرہ ہالینڈ کے اقدامات کو یکسر مسترد کرتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم کورتولموش نے کہا کہ ہالینڈ کی حکومت کی طرف سے ہمارے وزراء کی توہین کا جواب عالمی قوانین اور مروجہ روایات کے مطابق ہی دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جب سے ہالینڈ کی حکومت نے ترکی کے وزراء کو اپنی سرزمین میں داخل ہونے سے روکا ہے تب سے ترکی اور ہالینڈ کے حکام کے درمیان ہرقسم کے رابطے معطل ہیں۔ ہالینڈ کےسفیر کو انقرہ آنے سے روک دیا گیا ہے، جب تک بحران موجود ہے ہالینڈ کے حکام کے ہوائی جہازوں کو ترکی کی سرزمین پر اترنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں ترک نائب وزیراعظم نے کہا کہ ہالینڈ حکومت کے اقدامات کو کوئی بھی اچھا نہیں سمجھے گا۔ انہوں نے ہالینڈ کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ یورپی ملک کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرتے ہوئے حالات کو بہتربنانے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔

ترک نائب وزیراعظم نے کہا کہ یورپ میں نازی اور فاشسٹ پھیل رہے ہیں مگر ترکی انہیں ہرجگہ بھرپور جواب دے گا۔

انہوں نے کہا کہ یورپ اور ترکی کے درمیان بحران نہیں بلکہ یہ بحران فاشسٹوں اور نازیوں کے ساتھ ہے۔ ان کے ملک کے پناہ گزینوں کے معاملے میں تمام وعدے پورے کیے مگر یورپ نے ایک وعدہ بھی ایفاء نہیں کیا۔

ایک سوال کے جواب میں ترک نائب وزیراعظم نے کہا کہ ان کا ملک شام کے منبج شہر میں کردوں کی موجودگی پر معترض نہیں بلکہ منبج میں آبادتی تبدیلی پر اعتراض کرتا ہے۔

جرمنی دہشت گردوں کا بے رحم سپورٹر ہے:ایردوآن

کل سوموار کو ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ایک بیان میں الزام عاید کیا کہ جرمنی دہشت گردوں کا بے رحم حامی ومدد گار ہے۔ انہوں نے ہالینڈ پر سفارتی پابندیاں عاید کرنے کی بھی دھمکی دی اور کہا کہ وہ ترک سفیروں کو ہالینڈ میں داخل ہونے سے روکنے کے اقدام پر یورپی یونین کی انسانی حقوق کی عدالت میں جائیں گے۔

قبل ازین ایک دوسرے بیان میں انہوں نے کہا کہ ریفرنڈم کے لیے آئینی ترامیم کو قبول نہ کرنے والے دہشت گردوں کے ساتھی ہیں۔ انہوں نے جرمنی پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کا بھی الزام عاید کیا۔

دوسری جانب جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے صدر ایردوآن کے الزامات کو شرمناک قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ جرمن چانسلر کے ترجمان اسٹیفن سیپرٹ نے ایک بیان میں کہا کہ انجیلا میرکل اشتعال انگیزی کے مقابلے میں شامل نہیں ہونا چاہتی مگر ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ ترک صدر کی طرف سےعاید الزامات شرمناک اور گھٹیا ہیں۔