.

امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط تزویراتی تعلقات پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی عرب کے نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے وائٹ ہاؤس میں منگل کے روز اپنی پہلی ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط ،وسیع البنیاد اور باہمی مفاد پر مبنی تزویراتی شراکت داری کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔انھوں نے مشرقِ وسطیٰ کے خطے کے استحکام اور خوش حالی کے لیے بھی دوطرفہ تعاون بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

دونوں رہ نماؤں نے اپنی اپنی ٹیموں کو سیاست ،دفاع ،سکیورٹی ،معیشت ،سرمایہ کاری ،ثقافت اور سماجی شعبوں میں امریکا اور سعودی عرب کے درمیان دونوں ملکوں کے مفاد میں تعلقات بڑھانے کے طریقے تلاش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان کی امریکی صدر سے ملاقات کے بعد ان کے سینیر مشیر نے کہا ہے کہ اس سے دونوں ملکوں کے دوطرفہ تعلقات میں ایک تاریخی موڑ آیا ہے اور یہ سعودی عرب اور امریکا کے درمیان استوار صحت مند اور مضبوط تعلقات کی جانب واضح اشارہ ہے۔

اس ملاقات کے بارے میں اب تک جو تفصیل سامنے آئی ہے،اس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس کو دوستانہ قرار دیا ہے۔اس کا واضح ثبوت شہزادہ محمد بن سلمان اور ان کے وفد کے اعزاز میں امریکی صدر کی جانب سے وائٹ ہاؤس کے ایسٹ ونگ میں ظہرانہ ہے۔

صدر ٹرمپ نے سعودی نائب ولی عہد سے ملاقات کے آغاز پر اپنے سینیر عہدہ داروں کو بھی ہال میں آنے کی دعوت دی تھی تاکہ وہ بھی معزز مہمان سے ان کی وہ گفتگو سن سکیں جو صدر ٹرمپ قبل ازیں سن چکے تھے۔چنانچہ انھوں نے اپنے معزز مہمان سے اپنی اس گفتگو کے اعادے کے لیے کہا تھا۔

اس ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے سے متعلق گفتگو کے علاوہ باہمی دلچسپی کے مختلف علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔شہزادہ محمد نے چھے مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اس کو اسلامی ممالک یا اسلام پر پابندی نہیں گردانتا ہے بلکہ اس کا مقصد دہشت گردوں کا امریکا میں داخلہ روکنا ہے۔

انھوں نے انکشاف کیا کہ سعودی عرب امریکا میں دہشت گردی کی ایک سازش کے بارے میں آگاہ ہے۔اس طرح کی کارروائی کی ان چھے ممالک میں خفیہ طور پر منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔انھوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے حفظ ماتقدم کے طور پر اس اقدام کی حمایت کا اظہار کیا۔

خطے میں ایران کی مداخلت

دونوں رہ نماؤں نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ خطے میں ایران کی مداخلت کو روکنا ناگزیر ہے۔امریکا کی موجودہ انتظامیہ نے سابق صدر براک اوباما کے دور میں سعودی عرب کے ایران کے بارے میں اختیار کردہ مؤقف کو سراہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے خطے میں ایران کی سرگرمیوں اور دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت سے متعلق سعودی عرب کے سابقہ اور موجودہ اقدامات کی تعریف کی۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے ملک کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ ایران سے چھے بڑی طاقتوں کا جولائی 2015ء میں طے شدہ جوہری معاہدہ مہلک اور خطے کے لیے بہت ہی خطرناک ہے۔ان کے بہ قول یہ معاہدہ بہت حیران کن بھی تھا کیونکہ اس کے ذریعے ایران کے بنیاد پرست رجیم کو جوہری ہتھیاروں کے پروگرام پر عمل درآمد کے لیے مزید وقت دے دیا گیا تھا۔نیز اس سے خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہوجائے گی کیونکہ کوئی بھی ملک ایک جوہری ایران کو برداشت نہیں کرے گا۔

خطے میں دہشت گردی کے حوالے سے طرفین نے اس بات سے اتفاق کیا کہ سعودی عرب میں بعض دہشت گرد گروپوں کی جانب سے سعودی شہریوں کے خلاف کی جانے والی بھرتی کامقصد انھیں قانونی اور جائز قرار دلوانا ہے کیونہ وہ سعودی عرب کو اسلامی دنیا کا واحد لیڈر ملک سمجھتے ہیں جس کا کوئی اور ملک ہم پلّہ نہیں ہوسکتا ہے۔

ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تزویراتی شراکت داری پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور سرمایہ کاری کے شعبے میں نئے مواقع پیدا کرنے کی اہمیت پر زوردیا گیا۔

انھوں نے امریکا میں سعودی عرب کی جانب سے وسیع سرمایہ کاری شروع کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔اس کے علاوہ انھوں نے امریکی کمپنیوں کے سعودی مارکیٹ میں داخلے کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا۔اس ضمن میں امریکی انتظامیہ نے سعودی مملکت کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملاقات کے دوران میں ہلکے پھلکے مگر طنزیہ انداز میں میڈیا کے افراد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا:’’ یہ اچھے لوگ ہیں‘‘۔اس کے جواب میں شہزادہ محمد بن سلمان یوں گویا ہوئے:’’ ہم ان سے ایسی ہی امید کرتے ہیں‘‘۔