.

جیل میں اعزاز کے ساتھ گریجوایشن کرنے والے سعودی سے ملیے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جیل کی زندگی کے بارے میں دو باتیں کہی جاتی ہیں۔وہاں جانے والے افراد بہت اچھے انسان بن جاتے ہیں یا پھر بگڑے ہوئے جرائم پیشہ مزید بگڑ جاتے ہیں اور وہ اعلیٰ درجے کے بدمعاش بن کر نکلتے ہیں۔سعودی عرب کی ایک جیل میں قید عبدالرحمان نامی نوجوان ان قیدیوں میں سے ہے جو قید کے دوران میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتے اور اس کو مفید مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔اس نے جیل میں رہتے ہوئے اعزاز کے ساتھ گریجوایشن کی تعلیم مکمل کر لی ہے۔

عبدالرحمان سعودی دارالحکومت الریاض کے جنوب میں واقع حائر جیل میں قید ہے۔اس نے امام یونیورسٹی سے ایک سو چودہ دوسرے قیدیوں کے ساتھ گریجوایشن کی ڈگری کے حصول کے لیے امتحان دیا تھا اور اعزاز کے ساتھ اساسیات دین میں بیچلر کی ڈگری حاصل کر لی ہے۔ اب اس نے اپنی قید کی مدت پوری ہونے سے قبل اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے قیدیوں کی بھلائی کے لیے ایک اصلاحی حکمت عملی اختیار کی ہے۔اس کے تحت ان کے ساتھ سخت سلوک کے بجائے اچھا برتاؤ کیا جاتا ہے اور قیدیوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے مواقع مہیا کیے جاتے ہیں اور یوں وہ قید کی مدت پوری کرنے کے بعد اور معمول کی زندگی کی جانب سے لوٹنے سے قبل گریجوایٹ ہوچکے ہوتے ہیں۔

عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ ’’ میں اب قید ہونے سے پہلے کی زندگی کے مقابلے میں مکمل طور پر ایک مختلف انسان ہوں۔میں اپنے ساتھیوں کو مشورہ دوں گا کہ وہ اپنے وقت کو ضائع مت کریں اور جیل میں قید کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں‘‘۔

سعودی جیلوں میں قید ایک سو چودہ افراد نے حال ہی میں جامعہ امام سے آٹھ مختلف دینی اور انتظامی مضامین میں بیچلر کی ڈگریاں حاصل کی ہیں۔انھوں نے سعودی ولی عہد اور وزیر داخلہ شہزادہ محمد بن نایف کے زیر نگرانی اصلاحی پروگرام کے تحت اپنی اعلیٰ تعلیم مکمل کی ہے۔ انھیں حال ہی میں ایک تقریب میں سینیر عہدہ داروں کی موجودگی میں اسناد عطا کی گئی ہیں۔اس موقع پر بہت سے قیدیوں کے خاندان بھی موجود تھے۔