.

شہزادہ محمد اور ٹرمپ کے درمیان شخصی ہم آہنگی: مشیر محمد بن سلمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے مشیر شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے 'فوکس نیوز چینل' کو منگل کی شب خصوصی انٹرویو دیا جس میں انہوں نے امریکی صدر اور شہزادہ محمد کے درمیان ہونے والی ملاقات کو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے ضمن میں 'تاریخی تبدیلی' قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں ذاتی حوالوں سے بھی متعددامور پر ہم آہنگی پائی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں متعدد اہم موضوعات پر بات چیت ہوئی اور ان معاملات پر اتفاق رائے پایا گیا۔
مشیر خاص نے اپنے انٹرویو میں اس امر کی جانب اشارہ کیا کہ شہزادہ محمد بن سلمان امریکا اور سعودی عرب کے درمیان اسٹرٹیجک تعلقات اور ان کے مثبت انداز میں جاری رہنے کو دونوں ملکوں کے مفاد میں قرار دیا۔

داعش کی بیخ کنی کے لئے سعودی عرب فوج بھیجنے کو تیار

امریکی صدر کی جانب سے شام میں محفوظ علاقوں کے قیام اور داعش کے مقابلے کی خاطر خلیجی ملکوں کو سرمایہ فراہم کرنے سے متعلق امریکی صدر کے ایک سابقہ بیان کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے

بن فرحان کا کہنا تھا کہ "سعودی عرب نے خطے میں استحکام کی خاطر اپنا کردار ادا کیا ہے۔ وہ اب بھی امریکا کے ساتھ ملکر کر شام، عراق اور پورے خطے میں داعش کے خلاف جنگ کے لئے صرف مالی وسائل ہی نہیں بلکہ اپنی فوج بھیجنے کو بھی تیار ہے۔ "سعودی عرب نے سابق صدر براک اوباما کے دور میں داعش کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی فوج بھیجنے کی پیشکش کی تھی لیکن اوباما انتظامیہ نے اس سلسلے میں گرم جوشی نہیں دکھائی، تاہم ہماری پیشکش آج بھی قائم ہے۔"

داعش پر ضرب سمیت شامیوں کو بشار اور ایران سے بچانا

شام میں محفوظ زون سے متعلق سوال پر شہزادہ محمد کے مشیر نے کہا کہ "انہیں نہیں معلوم کہ منگل کے روز صدر اوباما اور سعودی نائب ولی عہد کے ہونے والی ملاقات میں یہ تجویز زیر بحث آئی یا نہیں، تاہم سعودی عرب صرف آج داعش کے خاتمے کے لئے پرعزم نہیں بلکہ وہ اس کی نشو ونما میں حصہ ادا کرنے والی بنیادوں کو بھی ختم کرنا چاہتا ہے۔ اس مقصد کے لئے شامی عوام کو حکومت اور ایران دونوں سے بچانا ضروری ہے۔

مملکت میں اصلاحات اور انسانی حقوق سے متعلق اٹھائے گئے سوال پر نائب ولی عہد کے مشیر کا کہنا کہ سعودی عرب ہمیشہ ان امور کے احترام کے لئے کوشاں رہا ہے۔

انہوں نے یہ بات زور دیے کر کہی کہ سعودی حکومت ہمیشہ اپنے شہریوں کے لئے بہتر زندگی کے مواقع فراہم کرنے کے لئے کوشاں رہی ہے۔ نیز سعودی شہریوں کی فلاح وبہبود سے متعلق اقدامات اٹھانے میں سعودی عرب خطے کے بہت سے ممالک سے کئی قدم آگے ہے۔