.

محمد بن سلمان ۔ ٹرمپ ملاقات :دوطرفہ تعلقات کے" نئےموڑ کا آغاز"

سعودی نائب ولی عہد کے مشیر کا امریکی نشریاتی ادارے کوانٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ امریکا میں ان کے معاون خصوصی و مشیر نے کہا ہے کہ نائب ولی عہد اور امریکی صدر کے درمیان ہونے والی 'تاریخ ساز ملاقات دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کے نئے دور کانقطہ آغاز ہے۔'

نائب ولی عہد کے مشیر نے امریکی نشریاتی ادارے’بلوم برگ‘ کو دیئے گئے انٹرویو میں شہزادہ محمد بن سلمان اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی بات چیت کا تفصیلی احوال بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ اور شہزادہ محمد کے درمیان ہونے والی ملاقات نے دونوں ملکوں کو ایک بار پھر درست سمت میں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ دونوں رہ نماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں سیاسی، عسکری ، سیکیورٹی اور اقتصادی شعبوں سمیت کئی دیگر امور میں تعاون کے فروغ پر بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر امریکی صدرنے خطے کے مسائل کے بارے میں سعودی عرب کے اصولی موقف اور اس کے حل کے طریقہ کار کو توجہ اور انہماک سے سنا۔

ٹرمپ کا پناہ گزینوں بارے فیصلہ

ذرائع کے مطابق دورہ امریکا کے دوران سعودی نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات میں چھ ملکوں کے باشندوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کا معاملہ بھی زیربحث آیا۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ وہ چھ مسلمان ملکوں کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کے فیصلے پرشروع سے نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ سعودی عرب، امریکا کے اس فیصلے کو اسلامی ممالک پر پابندیوں کے ضمن میں نہیں لیتا بلکہ دہشت گردوں کی امریکا میں داخلے پر پابندی کے موقف کا حامی ہے۔

ملاقات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دین اسلام کو ایک بڑے آفاقی مذہب کے طور پرقابل قدر قرار دیا اور تسلیم کیا کہ اسلام بھی دیگر سماوی مذاہب کی طرح عظیم انسانی اقدار کاحامل مذہب ہے مگر اسے مذہبی انتہا پسندوں نے اپنے ہاتھوں میں یرغمال بنا لیا ہے۔ ملاقات کے دوران شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ وہ امریکا کو درپیش دہشت گردی کے خطرات کو حقیقت کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ جن چند مسلمان ملکوں کے باشندوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عاید کی گئی ہے ان میں سرگرم کئی ایسے گروپ اور جماعتیں موجود ہیں جو امریکا کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

سعودی مشیر نے کہا کہ شہزادہ محمد بن سلمان اور صدر ٹرمپ کے درمیان ہوئی ملاقات میں دو طرفہ اقتصادی تعاون کے فروغ، سعودی سرمایہ کاروں کی امریکا میں سرمایہ کاری کے مواقع، سعودی مارکیٹ میں امریکی تجارتی کمپنیوں کو رسائی فراہم کرنے پر بات چیت کی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کو بتایا گیا کہ سعودی عرب اور امریکا کے درمیان سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ماحول سازگار بنانے کی ضرورت ہے۔

ایران سے جوہری معاہدہ ایک" صدمہ"

سعودی عرب کے مشیر نے امریکی اخبارکو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ صدر ٹرمپ اور شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ملاقات میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان تہران کے متنازع جوہری پروگرام پر طے پانے والے سمجھوتے کا بھی تذکرہ کیا گیا۔

اس موقع پر شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ جوہری معاہدہ بدترین، انتہائی خطرناک اور خطے کے ممالک کی سیاست کو سمجھنے والوں کے لیے' صدمے' سے کم نہیں۔ اس معاہدے نے ایران کے بنیاد پرست نظام کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے بجائے سست روی سے جوہری پروگرام پر کام جاری رکھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ خطے کے ممالک ایران کے جوہری پروگرام پر طے پائے امن سمجھوتے کو کسی صورت میں قبول نہیں کریں گے۔

شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر کے درمیان ملاقات میں ایران کے عرب خطے میں مداخلت، دہشت گرد تنظیموں بالخصوص حزب اللہ، داعش اور القاعدہ کی سرپرستی اور مسئلہ فلسطین کے حل کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے پربھی تفصیلی بات چیت کی گئی۔

دونوں رہ نماؤں نے امریکا میں نئی حکومت کے بعد آنے والی تبدیلی اور سعودی عرب کے اقتصادی ویژن 2030ء میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون جاری رکھنے سے اتفاق کیا۔

خطے میں دہشت گردی

دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی نائب ولی عہد کے درمیان ہونے والی ملاقات میں اس موضوع تفصیلی بات چیت کی گئی۔

سعودی مشیر نے بلومبرگ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں بعض گروپ شہریوں کو دہشت گردی کے مذموم مقاصد کے لیے بھرتی کررہے ہیں۔ یہ گروپ عالمی سطح پر سعودی عرب کے احترام سے ناجائز فایدہ اٹھاتے ہوئے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے کوشاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور امریکا کے درمیان تصادم اور سعودی عرب کوعالم اسلام میں تنہا کرنے کے لیے اسامہ بن لادن نے القاعدہ تشکیل دی۔ اس تنظیم کو اخوان المسلمون کی فکری آبیار ملی۔ القاعدہ کے موجودہ سربراہ ایمن الظواہری نے خود یہ تسلیم کیا ہے کہ وہ یونیورسٹی میں زمانہ طالب علمی میں اخوان المسلمون کا رکن رہا ہے۔ اسامہ بن لادن نے امریکا اور دوسرے ملکوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے سعودی شہریوں کو القاعدہ میں بھرتی کیا۔

سعودی مشیر کے مطابق نائب ولی عہد اور صدر ٹرمپ کے درمیان عراق اور سعودیہ کے درمیان دیوار فاصل کی تعمیرپر بھی بات چیت کی گئی۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ وہ یمن اور سعودی عرب کے درمیان سرحد پر دیوار کی تعمیر کا تجربہ نہیں کرسکے۔

ٹرمپ مسلمانوں کے حقیقی دوست

سعودی عرب کے مشیر نےکہا کہ شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام کے بارے میں اپنے مثبت جذبات کا اظہارکیا۔ انہوں نے کہا کہ شہزادہ سلمان نے امریکی صدر سے ملاقات کے دوران ان کے اسلام کے بارے میں احساسات وجذبات کو ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی افواہوں کے برعکس پایا۔ ٹرمپ عالم اسلام کے ساتھ سنجیدہ اور غیرمسبوق تعلقات کےقیام کے خواہاں ہیں۔ شہزادہ محمد بن سلمان کے خیال میں صدر ٹرمپ مسلمانوں کےدشمن نہیں بلکہ حقیقی اور مخلص دوست ہیں۔ اسلام کے بارے میں ان کے منفی خیالات کی تشہیر مخالف ذرائع ابلاغ اورمنفی پروپیگنڈا ہے۔ اسلام کے بارے میں صدر ٹرمپ کے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کیاجاتا ہے۔