.

اسرائیل میں ایرانی فلم "سیلز مین" کی نمائش پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں ذرائع ابلاغ کے قدامت پسند حلقوں نے بہترین غیر ملکی فلم کا آسکر ایوارڈ جیتنے والی ایرانی فلم "دی سیلز مین" کی اسرائیل میں نمائش کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ فلم کے پروڈیوسر اصغر فرہاد خود تو ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہیں تاہم انہوں نے ایک ایسی ریاست میں اپنی فلم کی نمائش کو نہیں روکا جو مسلمانوں کے خلاف مظالم کا ارتکاب کرتی ہے۔

ایرانی تنظیم باسیج کے زیر انتظام طلبہ جماعتوں کی ایک ویب سائٹ کے مطابق مقبوضہ اراضی میں فلم "سیلزمین" کی نمائش کا آغاز 16 مارچ سے ہوگا۔ کسی بھی ایرانی فلم کے اسرائیل میں نمائش کے لیے پیش کیے جانے کا یہ پہلا موقع ہے۔

ویب سائٹ نے اصغر فرہادی پر کڑی نکتہ چینی کی ہے جنہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بعض مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں پر امریکا میں داخلے پر پابندی کے فیصلے کے خلاف احتجاجا ہالی وُڈ میں آسکر ایوراڈز کی تقریب کا بائیکاٹ کیا تھا۔

ویب سائٹ کے مطابق یہ حیران کن امر ہے کہ جس فلم کو نسل پرستانہ پالیسیوں کے خلاف احتجاج کے ذریعے کے طور پر استعمال کیا گیا اب اسی فلم کو ایسی ریاست میں نمائش کے لیے پیش کیا جا رہا ہے جو فلسطینی قوم کی اراضی اور مال غصب کر کے اس کے بچوں کو موت کی نیند سُلا رہی ہے۔

آسکر ایوارڈ کی تقریب کے انعقاد سے قبل ایرانی فلم "سیلزمین" کو برطانوی دارالحکومت لندن میں پیش کیا گیا تھا۔ فلم کے پروڈیوسر اصغر فرہادی اس سے قبل 2012 میں اپنی فلم "سیپریشن" پر بھی بہترین غیر ملکی فلم کا آسکر ایوارڈ حاص کر چکے ہیں۔

بہت سے حلقوں کے نزدیک فرہادی کا امریکی صدر کی مہاجرین کے متعلق پالیسی پر احتجاج.. ایرانی پروڈیوسر کی فلم کے ایوارڈ جیتنے کی ایک "سیاسی وجہ" تھی۔