.

ظہرانہ جو ٹرمپ اور شہزادہ محمد کے درمیان اہم ملاقات میں بدل گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

منگل کے روز وہائٹ ہاؤس میں سعودی نائب ولی عہد شہزاد محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ملاقات دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں ایک "تاریخی تبدیلی" ہے۔ یہ تبصرہ شہزادہ محمد بن سلمان کے مشیر کی جانب سے سامنے آیا ہے۔

العربیہ کی نمائندہ کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے دیا جانے والا ظہرانہ گرم جوشی کا مظہر تھا۔ اس موقع پر اہم شخصیات موجود تھیں جن میں نائب امریکی صدر مائیک پینس ، قومی سلامتی کے مشیر ہاربرٹ میک ، امریکی صدر کے معاون اسٹیو بینن ، ٹرمپ کے داماد اور وہائٹ ہاؤس میں ان کے سینئر مشیر جیرڈ کُشنر ، اقتصادی امور کے لیے ٹرمپ کی مشیر ڈینا پاول کے علاوہ سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر اور سینئر سعودی اور امریکی ذمے داران شامل ہیں۔

ظہرانے کے دوران متعدد اہم امور پر بات چیت ہوئی جن میں نمایاں ترین ایرانی مداخلت اور بعض اقتصادی و سیاسی مسائل تھے۔ امریکی صدر نے سعودی نائب ولی عہد کے ساتھ ملاقات کے آغاز کے بعد سینئر اہل کاروں کو ہال میں آنے کی دعوت دی تاکہ وہ بھی شہزادہ محمد اور ٹرمپ کے درمیان ہونے والی بات چیت کو جان لیں۔

خاندانی ہال میں ظہرانہ

یاد رہے کہ ظہرانے کا انتظام وہائٹ ہاؤس کے مشرقی حصے میں خاندانی ہال میں کیا گیا۔ اس سے شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر کے درمیان قربت کا واضح ثبوت ملتا ہے۔

ملاقات کے پروٹوکول میں تصاویر کے لیے صحافیوں کی آمد شامل نہیں تھی تاہم ٹرمپ نے انہیں طلب کر لیا جو امریکی صدر کی جانب سے اپنے مہمان پر خصوصی توجہ کا مظہر ہے۔ یاد رہے کہ امریکی صدر عالمی رہ نماؤں کے ساتھ اپنی ملاقاتوں میں ایک سے زیادہ مرتبہ پروٹوکول کو توڑ چکے ہیں اور شہزادہ محمد بن سلمان کے استقبال میں بھی انہوں نے ایسا ہی کیا۔

دوسری جانب واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ اسٹڈیز کے محقق سائمن ہینڈرسن کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ سعودی عرب کو مشرق وسطی کے ایک مرکزی حصے اور مثبت تعلقات کے واسطے ایک اہم ریاست کے طور پر دیکھ رہی ہے خواہ اس دوران بعض مواقع پر کشیدگی بھی دیکھنے میں آ چکی ہے۔ یہ رجحان اوباما انتظامیہ کے برخلاف ہے"۔ غالبا یہ ہی وجہ ہے کہ امریکی صدر شہزادہ محمد بن سلمان کے استقبال کے واسطے اپنی ملاقاتوں کا شیڈول تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئے۔