.

سعودی عرب اور چین کے درمیان دوطرفہ تعاون کے 21 سمجھوتے

دو بڑی چینی کمپنیوں کو سعودی عرب میں سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے لائسنسوں کا اجراء

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اور چین نے مختلف شعبوں میں دو طرفہ شراکت داری اور تعاون کو بڑھانے کے لیے جمعرات کے روز مفاہمت کی اکیس یاد داشتوں پر دستخط کیے ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان یہ سمجھوتے بیجنگ میں منعقدہ سعودی،چین بزنس فورم کے موقع پر طے پائے ہیں۔ اس میں سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز بھی شریک تھے۔اس فورم میں سعودی عرب کے ویژن 2030 کے تحت منصوبوں میں چین کی جانب سے سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لیا گیا ہے۔

شاہ سلمان کے بیجنگ کے دورے کے موقع پر دو چینی کمپنیوں شینڈونگ تیانگونگ میکنیکل اینڈ الیکٹریکل ایکویپمنٹ کمپنی اور زیڈ ٹی ای کو سعودی عرب میں سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے لائسنس جاری کیے گئے ہیں۔

چین کے نائب وزیرخارجہ ژانگ منگ نے بتایا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سرمایہ کاری ،توانائی ،خلائی ٹیکنالوجی اور دوسرے شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے سمجھوتے طے پائے ہیں۔

مشرق اور مغرب کے درمیان تجارتی تعلقات

دریں اثناء سعودی شاہ سلمان اور چینی صدر شی جین پنگ نے بیجنگ کے چائنا نیشنل میوزیم میں منعقدہ روڈز آف عرب نمائش کی اختتامی تقریب میں شرکت کی ہے۔

دونوں لیڈروں نے نمائش میں رکھے گئے مختلف نوادرات کو ملاحظہ کیا۔ان کے ذریعے جزیرہ نما عرب کی طویل تاریخ وثقافت کو اجاگر کیا گیا تھا۔نمائش میں سعودی عرب کے ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف فن پارے رکھے گئے تھے۔

اس نمائش میں پیش کیے گئے نوادر اور دستاویزات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے دس لاکھ سال قبل کے پتھر کے دور، قبل از تاریخ کے دور سے لے کر جدید سعودی ریاست کے قیام اور اس کے بانی شاہ عبدالعزیز کے دور تک کی تاریخ کو اجاگر کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ چین اور سعودی عرب نے قدیم تجارتی گذرگاہ شاہراہ ریشم کی تعمیر میں حصہ لیا ہے اور اس کو فعال بنایا ہے جس کی وجہ سے مشرق اور مغرب کے درمیان تجارتی تعلقات کے فروغ اور تہذیبوں کے درمیان باہمی روابط اور تعلقات کو مربوط بنانے میں مدد ملی ہے۔