.

شہزادہ محمد اور ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو نکیل ڈالنے پر متفق

داعش کو کچلنے کے لیے عسکری تعاون بڑھائیں گے: وائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وائٹ ہاؤس کی طرف سےبدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکا کے دورے پر آئے سعودی عرب کے نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کے درمیان ملاقات میں ایران کی خطے میں بڑھتی مداخلت اور اس کی روک تھام پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہ نماؤں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ایران کی مداخلت سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے ایران کو نکیل ڈالنے کی ضرورت سے بھی اتفاق کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور شہزادہ محمد بن سلمان کے ایران کی خطے میں مداخلت اور سرگرمیوں کے بارے میں خیالات میں یکسانیت موجود ہے اور دونوں دوست ملک ایرانی مداخلت کو روکنے کے لیے مل کر کوششیں کرنے کے لیے تیار ہیں۔

امریکا اور سعودی عرب کی قیادت نے ایران کے بڑھتے خطرے کی مل کر روک تھام کرنے کے ساتھ ساتھ شدت پسند گروپ داعش اور دوسری دہشت گرد تنظیموں سے خطے کو لاحق خطرے کی روک تھام کے لیے بھی مشترکہ کوششیں کرنے سے اتفاق کیا۔

امریکی صدر اور شہزاہ محمد بن سلمان کے درمیان ہونے والی بات چیت میں داعش کے خلاف عسکری تعاون بڑھانے کی ضرورت سے اتفاق کیا گیا۔

امریکی صدر نے فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان تنازع کے جامع اور دیر پا حل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ توانائی، صنعت، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، ٹیکنالوجی اور دوسرے شعبوں میں 200 ارب ڈالر سرمایہ کاری میں دلچسیی کا اظہار کیا۔

عالمی معیشت اور سرمایہ کاری

شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات میں باہمی تجارتی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے فروغ پر بات چیت کی گئی۔ امریکی صدر نے دو طرفہ تجارتی سہولیات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ دونوں ملکوں میں سرمایہ کاری کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہوسکیں۔

سعودی نائب ولی عہد کے دورہ امریکا کے دوران امریکی صدر سے ملاقات میں کہا گیا کہ امریکا اگلے چار سال کے دوران روزگار کے چالیس لاکھ مواقع پیدا کرے گا جب کہ سعودی عرب بھی امریکیوں کو اپنے ہاں روز گار فراہم کرنے اور ان کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے کے لیے موثر کوششیں جاری رکھے گا۔

وائیٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ نائب ولی عہد نے سعودی اقتصادی ویژن 2030ء کے بارے میں پہلی بار امریکی انتظامیہ کو بریفنگ دی۔