.

مراکش: عبدالالہ بن کیران برطرف، نئے وزیراعظم کا انتخاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقا کے عرب مسلمان ملک مراکش کے فرمانروا شاہ محمد ششم نے وسیع تراختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اسلام پسند انصاف و ترقی پارٹی کے عبدالالہ بن کیران کو وزارت عظمیٰ سے سبکدوش کرنے کے بعد ان کی جگہ نیا وزیراعظم منتخب کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2016ء کو مراکش میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں اسلام پسند مذہبی سیاسی جماعت ’انصاف وترقی‘ نے زیادہ سیٹیں جیت کر حکومت بنانے کا اعلان کیا تھا تاہم سیاسی جماعتوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کےباعث حکومت جمود کا شکار تھی۔

الرباط میں شاہی دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شاہ محمد ششم عبدالالہ بن کیران کی جگہ ایک دوسرے رہ نما کو وزارت عظمیٰ کا عہدہ سونپ رہے ہیں۔ آخری اطلاعات تک نئے وزیراعظم کا نام سامنے نہیں آیا تاہم شاہی بیان میں کہا گیا ہے کہ باد شاہ سلامت جلد ہی مجوزہ وزیراعظم سے ملاقات کریں گے اور انہیں کابینہ تشکیل دینے کی دعوت دیں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ شاہ محمد ششم نے دستوری اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے حکومت کی تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ملک وقوم کے مفاد میں کیا گیا۔

سیاسی جمود کا خاتمہ

شاہ محمد ششم کی طرف سے کہا گیا ہے کہ پچھلے چھ ماہ سے حکومت کی تشکیل کی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں۔ حکومت کی تشکیل میں طویل بحران کے بعد اس جمود کو ختم کرنے کے لیے کسی اہم بریک تھرو کی ضرورت تھی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ برس پارلیمانی انتخابات کے سرکاری نتائج آنے کے48 گھنٹے کے اندر اندر عبدالالہ بن کیران کو حکومت تشکیل دینے کی دعوت دی گئی تھی مگر وہ نئی کابینہ تشکیل دینے میں ناکام رہے۔

شاہ محمد ششم کی طرف سے یہ فیصلہ یک دم نہیں کیا گیا بلکہ انہوں نے حکومت کی تشکیل کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے عبدالالہ بن کیران اور دیگر رہ نماؤں سے متعدد بار صلاح مشورہ بھی کیا مگر بن کیران نئی حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہے تھے۔