.

یورپ میں پناہ گزینوں کا طوفان روکنے کا معاہدہ خطرے سے دوچار

یورپ نے معاہدے پرعمل نہیں کیا، ہم یک طرفہ طور پرمنسوخ کرسکتے ہیں: ترکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی نے یورپی ممالک کے ساتھ پیدا ہونے والے سفارتی بحران کے بعد مارچ 2016ء میں پناہ گزینوں کی آمد ورفت روکنے کے حوالے سےطے پائے سمجھوتے کو ختم کرنے کی دھمکی دی ہے۔

اس معاہدے کے تحت ترکی کے شہریوں کو یورپی ملکوں کے ویزے جاری کرنے اور انہیں زیادہ سے زیادہ سفری سہولیات کے بدلے میں پناہ گزینوں کی یورپی منتقلی روکنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم حالیہ دنوں میں ترکی اور بعض یورپی ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات نے اس معاہدے کو خطرے سے دوچارکر دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ترک وزیرخارجہ مولود شاوش اوگلو نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ہم یورپی ملکوں کے ساتھ پناہ گزینوں کی روک تھام کے حوالے سے طے پائے معاہدے کو یک طرفہ طور پر روک سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے یورپی حکام کو اپنے اس فیصلے کے بارے میں آگاہ نہیں کیا اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔ ہم ایسے کسی معاہدے پرعمل درآمد نہیں کرسکتے جس پر دوسرا فریق راضی نہ ہو۔ انہوں نے یورپی ممالک پر شدید تنقید کی اور کہا کہ یورپ نے ترک شہریوں کو ویزے دینے کا جو معاہدہ کیا تھا اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔