.

یمنی باغیوں کی کھوکھلی سیاسی شراکت کی عمارت زمین بوس ہونے لگی

حوثیوں، علی صالح کے ایک دوسرے پر الزامات، اختلافات شدت اختیار کرگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حکومت کے خلاف برسرپیکار ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی اور سابق منحرف صدر علی عبداللہ صالح کی باہمی سیاسی شراکت شدید خطرات سے دوچار ہوگئی ہے۔ دونوں گروپوں کے سرکردہ لیڈروں نے ایک دوسرے پر الزامات عاید کرنا شروع کیے ہیں۔ دونوں باغی گروپوں میں اختلافات شدت اختیار کرنے کے بعد سیاسی شراکت ختم کرنے کے مطالبات شدت اختیار کر گئے ہیں۔

العربیہ ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق علی صالح اور حوثی دونوں گروپ ایک دوسرے پر عدم تعاون کا الزام عاید کرتے ہوئے الگ الگ پالیسیوں پر چلنے کا بھی الزام عاید کرتے ہیں۔

اس کی تازہ مثال حال ہی میں اس وقت سامنے آئی جب باغیوں کے قائم کردہ وزیر تعلیم حسین حازب اور ان کے نائب عبداللہ الشامی کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوئے۔ یہ اختلافات اس وقت سامنے آئے جب حوثی مسلح عناصر کے ایک گروپ نے وزارت تعلیم کے صدر دفتر اور اس کی لائبریری پر دھاوا بول دیا۔

عبداللہ الشامی کا کہنا ہے کہ ہم نے ایک ایسے گروپ کے ساتھ سیاسی شراکت داری کا معاہدہ کررکھا ہے جو حلیف ہونے کے تقاضوں اور سیاسی شراکت داری کے بارے میں کچھ جانتا ہی نہیں۔

اس واقعے کے بعد علی صالح کے کئی وفاداروں نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ حوثیوں کے ساتھ سیاسی شراکت کا معاہدہ ختم کرتے ہوئے باغیوں کے ساتھ تعاون کی پالیسی تبدیل کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ باغی گروپوں کے درمیان مفاہمت اور سیاسی شراکت محض نمائشی اور عارجی ہے۔ ھوثی باغی اپنی من مانی کرتے ہوئے نہ صرف قومی خزانے پر قابض ہیں بلکہ وہ اپنے سیاسی حلیفوں کو بھی بنیادی مراعات حتیٰ کہ تنخواہوں سے بھی محروم کررہے ہیں۔

ادھر دوسری جانب حوثی باغیوں کی طرف سے بھی علی صالح اور اس کے وفاداروں پر سیاسی شراکت کے اصولوں کی پامالی کا الزام عاید کیا گیا ہے۔ باغیوں کی قائم کردہ حکومت میں وزیر کھیل وامور نوجوانان حسن زید نے ’فیس بک‘ پر دسیوں بیانات پوسٹ کیے ہیں جن میں علی صالح کی شراکت ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ علی صالح اور حوثیوں کے درمیان اختلافات میاں بیوی کےدرمیان طلاق یا زوجین میں سے کسی ایک کے قتل کا موجب بن رہے ہیں۔