.

بنگلہ دیش : پولیس کی فائرنگ سے مشتبہ حملہ آور بمبار ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بنگلہ دیش میں پولیس نے ایک سکیورٹی چیک پوسٹ میں گھسنے کی کوشش کرنے والے مشتبہ حملہ آور بمبار کو فائرنگ کر کے ہلاک کردیا ہے۔

انسداد دہشت گردی فورس کی سریع الحرکت بٹالین کے میڈیا ونگ کے سربراہ مفتی محمود خان نے بتایا ہے کہ اس موٹرسائیکل سوار نے ہفتے کے روز دارالحکومت ڈھاکا کے نواح میں واقع علاقے کھلگاؤں میں ایک چیک پوسٹ میں گھسنے کی کوشش کی تھی۔اس دوران میں بعض افسروں نے اس پر فائرنگ شروع کردی۔اس نے اپنے جسم کے ساتھ دھماکا خیز مواد باندھ رکھا تھا اور اس حملے میں دو افسر زخمی ہوگئے ہیں۔

اس واقعےسے ایک روز قبل ہی ڈھاکا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک ایک حملہ آور بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔اس بم دھماکے کے بعد ملک کے تمام ہوائی اڈوں ،جیلوں اور اہم مقامات پر سکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔

گذشتہ جمعرات کو پولیس نے جنوب مشرقی شہر چٹاگانگ میں ایک چھاپا مار کارروائی کے دوران میں ایک اسلامی جنگجو گروپ سے تعلق رکھنے والے چار مشتبہ افراد کو ہلاک کردیا تھا۔ ان پر جولائی 2016ء میں ڈھاکا میں واقع ایک مشہور کیفے پر حملے میں ملوث ہونے کا شُبہ تھا۔اس حملے میں غیرملکیوں سمیت بائیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں گذشتہ ڈیڑھ ایک سال کے دوران میں جنگجوؤں نے متعدد حملے کیے ہیں اور لبرل افراد یا اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی مذہبی شخصیات کو قتل کردیا ہے۔ القاعدہ اور داعش نے ان حملوں اور قتل کی وارداتوں میں سے بعض کی ذمے داری قبول کرنے کے دعوے کیے ہیں۔

بنگلہ دیشی حکام ملک میں داعش اور القاعدہ ایسے بین الاقوامی گروپوں کی موجودگی کی تردید کرتے چلے آرہے ہیں۔وہ ملکی جنگجوؤں پر ہی دہشت گردی کے حملوں میں ملوّث ہونے کے الزامات عاید کر رہے ہیں۔انھوں نے کالعدم گروپ جمعیت المجاہدین (جے ایم بی) پرڈھاکا میں کیفے پر دھاوا بولنے کا الزام عاید کیا تھا۔ تاہم سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حملے کی نوعیت سے یہ اندازہ کرنا قطعی مشکل نہیں کہ اس میں ملوّث ملکی جنگجوؤں کے بین الاقوامی جنگجو گروپوں سے بھی روابط استوار تھے۔

پولیس نے کیفے پر حملے کے بعد سے فائرنگ کے مختلف واقعات اور چھاپا مار کارروائیوں میں پچاس سے زیادہ مشتبہ جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے۔ان میں جمعیت المجاہدین کا سابق سربراہ بنگلہ دیشی نژاد کینیڈین شہری تیس سالہ تمیم احمد چودھری بھی شامل تھا۔ وہ اگست 2016ء میں دارالحکومت کے ںواح میں پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا تھا۔تمیم چودھری ہی کو کیفے پر حملے کا منصوبہ ساز قرار دیا گیا تھا۔