.

اورلی حملہ آور کے متعلق نئے انکشافات: "شدت پسند" جان دینے آیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں حکام نے دارالحکومت پیرس کے اورلی ہوائی اڈے کے حملہ آور سے متعلق نئی تفصیلات کا انکشاف کیا ہے جس نے ہفتے کے روز ملک کے دوسرے مصروف ترین ہوائی اڈے پر دہشت پھیلا دی تھی۔ فرانس کے اٹارنی جنرل فرانسوا مولینس نے واقعے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ 39 سالہ حملہ آور کا نام زیاد بن بلقاسم ہے۔ وہ ہفتے کی صبح ایک بیگ میں پیٹرول پیک لے کر اورلی ہوائی اڈے پر پہنچا اور ہاں گشت پر مامور ایک خاتون فوجی اہل کار کے سر پر پستول تان کر اس سے اسلحہ چھیننے کی کوشش کی۔ اس دوران زیاد کا کہنا تھا کہ "اللہ کے راستے میں جان دینا چاہتا ہے"۔ تاہم حملہ آور کو فوری طور پر فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔

خون ریز حملے کی منصوبہ بندی

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حملہ آور غالبا ایک خطرناک حملے کا ارادہ رکھتا تھا۔ سکیورٹی کیمروں کے مناظر سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اسلحہ چھین کر لوگوں پر اندھادھند فائرنگ کرنا چاہتا تھا۔ فرانسیسی پولیس نے حملہ آور کی لاش کی تلاشی کے دوران 750 یورو برآمد کر لیے۔ اس کے علاوہ اُس کے گھر سے کئی کلو گرام کوکین اور غیر ملکی کرنسی بھی ملی ہے۔

پیرس کے شمال میں پولیس پر فائرنگ

فرانسیسی پولیس نے حملہ آور زیاد کے بھائی اور والد کو گرفتار کر لیا ہے جن کے پاس مبینہ طور پر حملے سے چند گھنٹے قبل زیاد کا پیغام آیا تھا۔

فرانسیسی وزیر داخلہ کے انکشاف کے مطابق زیاد نے ہفتے کی صبح سات بجے کے قریب پیرس کے شمالی علاقے میں پولیس نے زیاد کو روکا تاہم اُس نے فائرنگ کر کے ایک پولیس اہل کار کو زخمی کر دیا اور وہاں سے فرار ہو گیا۔ بعد ازاں اُس نے شہر کے جنوبی حصے کا رُخ کیا اور اورلی ہوائی اڈے سے 10 کلومیٹر دور Virty sur seine کے نواحی علاقے سے ایک گاڑی چوری کی۔ اس دوران اس نے ایک دکان میں داخل ہو کر وہاں موجود لوگوں کو بھی دھمکایا اور پھر تقریبا ساڑھے آٹھ بجے وہ اورلی ہوائی اڈے پہنچا۔ فرانسیسی پولیس کے مطابق حملہ آور زیاد کا نام انٹیلی جنس اداروں کے ریکارڈ میں شدت پسند کے طور پر موجود ہے۔

مجرمانہ کارروائیوں کے حوالے سے معروف

فرانس کے اخباری ذرائع نے ہفتے کے روز بتایا تھا کہ حملہ آور زیاد پیرس میں ہی پیدا ہوا اور val d oisee کے علاقے میں رہا۔ تحقیقات کے مطابق وہ مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کے سبب سکیورٹی اداروں کو مطلوب رہا ہے تاہم دہشت گردوں کی فہرست میں اس کا نام نہیں تھا۔

فرانسیسی ریکارڈ کے مطابق زیاد کے خلاف 44 مقدمات کا اندراج ہوا۔ وہ عدالتی حکم کے تحت زیر نگرانی تھا۔ اس کی ابتدائی مجرمانہ کارروائیوں میں توجہ کا مرکز بینک اور دفاتر پر دھاوا بولنا تھا۔

"العربیہ" نیوز چینل کے نمائندے کے مطابق فرانسیسی پولیس نے حملہ آور کے زیر استعمال اپارٹمنٹ پر چھاپہ مارا۔

فرانسیسی سکیورٹی حکام نے زیاد کی شخصیت پر شدت پسندی کے آثار نمایاں ہونے کے بعد 2015 میں اس کے گھر کی تلاشی لی تھی۔

یاد رہے کہ فرانسیسی صدر فرنسوا اولاند نے ہفتے کے روز حملے کے مقام کا دورہ کیا۔ اس موقع پر اورلی ہوائی اڈے سے دیے گئے بیان میں صدر نے کہا کہ فرانس نے 55 برس قبل ہی مطلوبہ اقدامات کا آغاز کر دیا تھا اور دہشت گرد حملوں کے اندیشوں کے پیشِ نظر احتیاطی تدابیر اختیار کیں۔