.

ٹرمپ اور محمد بن سلمان کی ملاقاتوں میں سینئر ذمے داران کی موجودگی ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وہائٹ ہاؤس میں سعودی نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات صدر کی قریبی شخصیات کی موجودگی اور مختلف موضوعات کے زیر گفتگو آنے کے سبب نمایاں اہمیت کی حامل رہی۔ اس موقع پر امریکا کی قومی سلامتی کے مشیر جنرل میک ماسٹر کے علاوہ امریکی صدر کے تین مشیر بھی موجود تھے۔ ان میں ٹرمپ کا داماد اور وہائٹ ہاؤس میں امن کے امور کا ذمے دار جیرڈ کُشنر ، صدر کی مشیر برائے اقتصادی امور دینا حبیب پاول اور صدر کے سیاسی مشیر اسٹیف بینن شامل ہیں۔

جامع مقاربت

قابلِ غور بات یہ ہے کہ مشیروں کا یہ مجموعہ معمول کے برخلاف پینٹاگون کے اجلاس میں بھی شریک تھا۔ یہ اس بات کا پہلا اشارہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات اور مشرق وسطی اور اسلامی دنیا کے معاملات کو ایک نئی مقاربت کے ساتھ دیکھنا چاہتی ہے جو دور اندیشی کی امتیازی صفت رکھتی ہو۔

یہ بات بھی واضح ہے کہ اب ٹرمپ انتظامیہ سکیورٹی خطرات کا مقابلہ کرنے کے واسطے امریکی فوجی طاقت استعمال کرنا چاہتی ہے۔ خواہ وہ ایران ، اس کے میزائل ذخیرے اور دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ اُس کے تعلقات کی شکل میں ہوں یا پھر ان خطرات کا تعلق القاعدہ ، داعش اور الاخوان المسلمون جیسی شدت پسند تنظیموں سے ہو۔

ٹرمپ انتظامیہ یہ بھی چاہتی ہے کہ امریکا کی فوجی طاقت کے ساتھ ساتھ وہ عرب اور اسلامی دنیا میں تونگری اور اقتصادی مواقع کی واپسی میں بھی قائدانہ کردار ادا کرے۔ وہ عربوں اور اسرائیل کے درمیان تنازع کا حل تلاش کرنا چاہتی ہے اور شدت پسند نظریات کا مقابلہ کرنا بھی۔

ٹرمپ کی قریبی شخصیات

جیرڈ کُشنر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا کا شوہر ہے جو ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران بھی اُن کے قریب تھا۔ ٹرمپ نے مشرق وسطی کا معاملہ بھی اُس کے سپرد کیا ہے۔ وہائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے اجلاسوں میں کُشنر کی موجودگی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ سعودی نائب ولی عہد کے ساتھ جامع انداز سے زیر بحث آنے والے معاملات میں مشرق وسطی میں امن کے قیام کا موضوع بھی شامل رہا۔

اسٹیف بینن کی دونوں ملاقاتوں میں موجودگی بھی انتہائی اہم اشارہ ہے۔ صحافت کے انتظامی امور سے ٹرمپ کی انتخابی مہم کے انتظامی امور تک اور پھر وہائٹ ہاؤس تک پہنچنے والی شخصیت کی پینٹاگون اجلاس میں شرکت اس امر کی غماز ہے کہ امریکی صدر اپنے مشیر کی طرح شدت پسند نظریات کے انسداد کی ضرورت پر قائل ہو چکے ہیں اور یہ کہ امریکا کی اعلی اقدار ہیں جن کی حفاظت کی جانی چاہیے۔

جہاں تک دینا حبیب پاول کا تعلق ہے تو وہ ایک سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں وزارت خارجہ میں سابق مشیر رہ چکی ہیں۔ وہ سرمایہ کاری کے ایک بڑے ادارے گولڈمین سیکس کے ذریعے وہائٹ ہاؤس تک پہنچی ہیں جہاں انہوں نے گزشتہ برسوں کے دوان ملازمت کی۔ دینا اس وقت ٹرمپ کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری کے ایسے مواقع نکالنے پر کام کر رہی ہیں جن سے امریکا کو اور اُس کے ساتھ خصوصی تجارتی تعلقات رکھنے والے ممالک کو بھی فائدہ پہنچے۔

وہائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ نے مملکت کے ویژن 2030 پروگرام کے حوالے سے نئے امریکی سعودی منصوبے کے لیے اپنی سپورٹ پیش کی ہے۔ اس سلسلے میں توانائی ، صنعت ، انفرا اسٹرکچر اور ٹکنالوجی کے شعبوں میں چار برسوں کے دوران براہ راست اور بالواسطہ طور پر 200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ صدر ٹرمپ نے سعودی عرب میں امریکی سرمایہ کاری اور دو طرفہ تجارت میں اضافے کے لیے بھی اپنی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔

اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ سعودی نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ امریکا ایک جامع دورہ تھا جس میں شہزادہ محمد نے عسکری ، سکیورٹی ، اقتصادی اور سیاسی شعبوں سے متعلق معاملات کی بھرپور نمائندگی کی۔