.

عورت کے حقوق کے حوالے سے خامنہ ای کی مغرب پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم رہ نما علی خامنہ ای نے مغرب کی جانب سے عورت کے حقوق کے نام پر دونوں جنسوں کے درمیان عدل اور مساوات کے مطالبے پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ "مغرب کے دانش ور" آج "مرد اور عورت کے درمیان مساوات" پر ندامت محسوس کر رہے ہیں۔

اتوار کے روز اپنے خطاب میں خامنہ ای نے کہا کہ "صہیونی" صفت عناصر عورت کو مغرب میں لذت کا سامان اور آلہ کار بنا کر "انسانی معاشرے کو تباہ کرنے" کی کوشش کر رہے ہیں۔

خامنہ ای کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انسانی حقوق کی ایرانی اور بین الاقوامی تنظیموں اور ایران میں انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق ایران میں خواتین کو قوانین ، ملازمت اور تعلیم میں صنفی امتیاز اور قدغن کا سامنا ہے۔

خواتین کے حقوق کی سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے قوانین بہت سے شعبوں میں عورت کے معاند ہیں۔ بالخصوص شوری نگہبان ملک کے صدر کے منصب کے لیے کسی خاتون کی نامزدگی قبول نہیں کرتی ہے۔

اس کے علاوہ ہزاروں خواتین کو روزانہ اخلاقی پولیس ، پاسداران انقلاب کے زیر انتظام ملیشیاؤں اور سخت گیر پریشر گروپوں کی جانب سے "مکمل شرعی حجاب نہ کرنے" کے بہانے ہراسیت یا گرفتاری کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

رواں برس 8 مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر عورتوں کے حقوق کے لیے سرگرم تقریبا 500 کارکنان نے ایک دستخط شدہ بیان میں ایرانی حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ عورتوں کے حقوق کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے واسطے اقدامات کیے جائیں۔

ایرانی ویب سائٹوں پر جاری ہونے والے اس بیان میں خواتین اور مردوں کی اجرتوں کو برابر کرنے سے متعلق قانون سازی ، عورتوں کے حقوق کے دفاع کی تنظیموں کے قیام کی اجازت دینے اور سیاسی ، سماجی ، اقتصادی اور ثقافتی زندگی میں خواتین کی شرکت کا مطالبہ کیا گیا۔