.

’ٹویٹر‘ پیغام جس نے صحافی کوعارضی طور پر مفلوج کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی پولیس نے ایک ایسے شخص کو حراست میں لیا ہے جس پرشبہ ہے کہ وہ صدر ٹرمپ پر تنقید کرنے پر ایک صحافی کو مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ’ٹوئٹر‘ کے ذریعے ایک انوکھی سزا دینے کا مرتکب ہوا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فالج کے اس انوکھے کیس کی تفصیلات کے مطابق 15 دسمبر 2016ء کو ’نیوز ویک‘ کے نامہ نگار کورٹ ایکنوالڈ کو ڈالاس شہر میں اپنے گھر پرموجودگی کے دوارن ’ٹوئٹر‘ کے ذریعے ایک پیغام ملا۔ یہ پیغام اسے ’جوگولڈشائن‘ نامی ایک شخص کے اکاؤنٹ سے آیا۔ پیغام کی عبارت کے ساتھ ساتھ اسٹرپواسکوپ سسٹم کی لائٹس بھی اس میں شامل تھیں۔

صحافی ایکنوالڈ کے وکیل اسٹیفن لائبرمین کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر کے ذریعے معنوی اذیت پہنچانے کی خبریں تو سنتے آئے ہیں مگر کسی شخس کو ’ٹوئٹر‘ کے ذریعے جسمانی اذیت سے دوچار کرنے کا قضہ پہلی بار سامنے آیا ہے۔

لائبرمین نے بتایا کہ پیغام بھیجنے والے شخص نے ایکنوالڈ کو لکھا کہ ’آپ اپنے پیغامات کی پاداش میں مرگی[فالج] جیسے بحران سے دوچار ہونے کے حق دار ہیں‘

خیال رہے کہ یہ بات مشہور ہے کہ اسٹروپوسکوپ کے کی ’فلیش لائٹس‘ جسمانی فالج اور مرگی کا موجب بنتی ہیں۔ اس کا ایک بڑا ثبوت ایکنوالڈ کا فالج بھی شامل ہے۔

ایکنوالڈ نے اپنے ساتھ پیش آئے حادثے کے بارے میں اعلانیہ اظہار کیا ہے۔

صحافی کے وکیل کا کہنا ہے کہ’ٹوئٹر‘ پیغام میں کے نتیجے میں اس کا موکل عارضی طور پر مفلوج ہوگیا۔ چند روز تک وہ قدرت کلام اور بائیں ہاتھ کے استعمال سے بھی محروم رہا تاہم اب اس کی حالت بہتر ہے۔

امریکی وزارت انصاف کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے جون ریفیلیون نامی ایک شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اس کے کمپیوٹر سے مشکوک نوعیت کا پیغام صحافی کو ارسال کے جانے کا شبہ ہے۔