.

اقوام متحدہ :یمنی بندرگاہ کی نگرانی کے لیے عرب اتحاد کا مطالبہ مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کا یہ مطالبہ مسترد کردیا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ عالمی ادارہ یمن کی الحدیدہ بندرگاہ کو اپنی نگرانی میں لے لے۔

عرب اتحاد نے اتوار کو اقوام متحدہ سے الحدیدہ کی بندرگاہ کو فوری طور پر اپنی نگرانی میں لینے کی اپیل کی تھی اوراس نے یہ مطالبہ بیالیس صومالی تارکین وطن کی یمن کی ساحلی حدود میں ہلاکت کے واقعے کے بعد کیا تھا۔

اقوام متحدہ کے ترجمان فرحان حق نے اس کے ردعمل میں یمن کے متحارب فریقوں سے کہا ہے کہ ’’ ملک کے سول ڈھانچے اور شہریوں کا تحفظ ان کی ذمے داری ہے اور وہ اپنی ذمے داریوں کو دوسروں کو منتقل نہیں کرسکتے ہیں‘‘۔

الحدیدہ کی بندرگاہ پر یمن کے حوثی شیعہ باغیوں کا کنٹرول ہے اور اس کو ملکی درآمدات کے لیے بڑی اہمیت حاصل ہے۔ملک کی ستر فی صد آبادی کے لیے خوراک اور دوسری اشیاء اسی بندرگاہ کے ذریعے درآمد کی جاتی ہیں اور پھر انھیں ملک کے دوسرے علاقوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔

فرحان حق نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ’’ یمن میں انسانی امداد ضرورت اور طلب کے مطابق مہیا کی جاتی ہے۔اس ضمن میں سیاسی مقاصد کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا ہے اور یہ انسانی امداد تمام دستیاب ذرائع سے جاری رہے گی‘‘۔

اقوام متحدہ کے مطابق یمن کی قریباً 73 لاکھ آبادی کو اس وقت خوراک کی اشد ضرورت ہے اور یہ آبادی دنیا میں خوراک کی سب سے زیادہ قلت کا شکار ہے۔

عرب اتحاد کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل احمد العسیری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کو یمن کی بندرگاہوں کے انتظام کی نگرانی کرنی چاہیے تاکہ انھیں حملوں کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔

عرب اتحاد نے اپنے مذکورہ بیان میں کہا تھا کہ الحدیدہ کی بندر گاہ کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں دینے سے یمنی عوام کو انسانی امدادی سامان بروقت پہنچانے میں مدد ملے گی۔اس کے علاوہ اس بندرگاہ کو ہتھیاروں اور انسانی اسمگلنگ کے لیے استعمال ہونے سے بھی روکا جاسکے گا۔

الحدیدہ کی بندرگاہ عدن کے بعد جنگ زدہ ملک کی دوسری بڑی بندرگاہ ہے۔اس کو اپنے تزویراتی محل وقوع کی بنا پر خاص اہمیت حاصل ہے اور یہ اہم آبی گذرگاہ آبنائے باب المندب کے بھی قریب واقع ہے۔اس کا رقبہ تین لاکھ پندرہ ہزار مربع میٹر ہے اور یہاں نوّے لاکھ ٹن تک مال اتارا جاسکتا ہے۔اس کی دس برتھیں ہیں جہاں ٹینکروں سے تیل اور دوسری پٹرولیم مصنوعات کو اتارا اور لادا جاسکتا ہے۔اس بندرگاہ کے بارہ گودام ہیں اور ان کا کل رقبہ سینتیس ہزار مربع میٹر ہے۔