.

صدام حسین کی ’نحوست‘ بھارتی انجینیر کے لیے وبال جان!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے سابق صدرمفلوج ڈکٹیٹر صدام حسین کی موت کے دس سال بعد بھی ایک بھارتی شہری کی زندگی میں ان کا غیرمعمولی عمل دخل ہے۔ بھارتی انجینیر کے لیے سب سے بڑی پریشانی اس کا صدام حسین کے ہم نام ہونا ہے۔ اس نے اپنا نام صدام حسین سے تبدیل کرکے ساجد حسین رکھا مگر اس کے باوجود نحوست اس کا پیچھا نہیں چھوڑ رہی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بھارت کے میرین انجینئرساجد حسین [سابق صدام حسین] اس کا الزام اپنے دادا کو نہیں ٹھہراتے جنھوں نے25 سال قبل اس کا نام عراق کے آمر رہنما پر[صدام حسین] رکھا تھا۔

اس کا کہنا ہے کہ وہ 40 سے زائد بار ملازمت ملنے سے انکار کا سامنا کرچکا۔ جس کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ملازمت دینے والے افراد یا ادارے انھیں نوکری دینے سے متنفر ہیں۔ حالانکہ وہ انگریزی میں اپنے نام کے دوسرے حصے حسین میں ’ای‘ کے بجائے ’اے‘ استعمال کرتے ہیں۔

چنانچہ انجینئر صدام حسین نے عدالت سے رجوع کیا ہے تاکہ وہ اپنا نام تبدیل کر کے ساجد رکھ سکیں، لیکن بیوکریسی کا پہیہ اس قدر سست رفتار ہے اور انھیں نوکری کی تلاش جاری ہے۔

بہرحال یہ بات طے شدہ ہے کہ انڈیا میں صدام حسین نام ایسا نہیں ہے جسے نظرانداز کر دیا جائے۔

انڈین ریاست جھارکھنڈ کے شہر جمشید پور سے تعلق رکھنے والے اس شخص نے تمل ناڈو کے نورالسلام یونیورسٹی سے تعلیم کی اور اس کے دوسال بعد انھیں اس بات کا احساس ہوا۔

صدام نام تبدیل کرنے والے ساجد نے ایک مقامی انڈین اخبار کو بتایا’ لوگ مجھے نوکری دینے سے ڈرتے ہی‘

ان کا کہنا ہے کہ انھیں ڈر رہتا ہے کہ بین الاقوامی سرحدوں پر وہ امیگریشن حکام کے ساتھ مشکلات کا شکار ہوسکتے ہیں۔

صدام حسین نے سوچا کہ وہ اس مسئلے سے پیچھا چھڑانے کے لیے نیا پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس اور دیگر کاغذات بنوا سکتے ہیں۔

لیکن نئے نام کے ساتھ بھی ان کی ملازمت کی درخواستوں میں اب بھی انھیں مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ وہ نئے نام سے ساتھ ثابت نہیں کر سکتے کہ وہ سکول میں زیرتعلیم رہے تھے، اور یہ سب ایک وقت صرف کرنے والا کام ہے۔

اس معاملے میں ساجد اکیلے نہیں ہیں۔ لیکن وہ عراق میں صدام حسین کے نام والوں سے خود کو زیادہ ستم زدہ محسوس کرتے ہیں، جنھیں ایک آمر کو خراج تحسین پیش کرنے کے تناطر میں یہ نام دیا گیا اور اب وہ اس نام کو پسند نہیں کرتے۔

عراق کے ‌صوبہ انبار کے سنی اکثریتی شہر رمادی میں کام کرنے والے صدام نامی ایک صحافی کا کہنا تھا کہ ان کے والد کو اس لیے ملازمت سے نکال دیا گیا کہ وہ اپنے افسران کو یہ باور نہیں کروا سکے کہ وہ صدام حسین کی بعث پارٹی کے رکن نہیں ہیں۔

پانچ مئی کو ہونے والے عدالتی کارروائی میں حکام کو ان کے سکینڈری سکول سرٹی فکیٹس پر نام کی تبدیلی کا حکم جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد ان کے گریجویشن کے کاغذات میں تبدیلی ہوگی۔