.

ایران خلیج میں بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے خطرہ : امریکی بحریہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی بحریہ کی قیادت نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جنگی جہازوں کے ساتھ کشیدگی کے ذریعے بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے خطرہ پیدا کر رہا ہے.. اور مستقبل میں پیش آنے والے واقعات مسلح جھڑپ کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

امریکی بحریہ کی قیادت کی جانب سے یہ بیان امریکی طیارہ بردار بحری جہاز جارج ایچ ڈبلیو بُش کو درپیش صورت حال کے بعد سامنے آیا۔ منگل کے روز امریکا کے زیر قیادت پانچ بحری جہازوں کا قافلہ آبنائے ہرمز میں داخل ہوا تو ایرانی بحریہ کی جنگی کشتیوں کے دو مجموعے اس قافلے کے نزدیک آ گئے تھے۔

ٹرمپ کے دور میں پہلی مرتبہ

جنوری میں ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب کوئی امریکی طیارہ بردار بحری جہاز آبنائے ہرمز میں داخل ہوا جہاں سے عالمی سطح پر سالانہ تیل کی 30 فی صد برآمدات کا گزر ہوتا ہے۔

امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہاز نے منگل کے روز اپنے ہیلی کاپٹروں کو ایرانی جنگی کشتیوں پر فضا میں گشت کے لیے بھیجا جو امریکی جہاز سے 870 میٹر تک قریب آ چکی تھیں۔ امریکی بحریہ کی قیادت کے مطابق صورت حال کا اختتام بغیر کوئی گولی چلے ہو گیا۔

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی

اس واقعے سے واضح طور پر اندازہ ہوتا ہے کہ ٹرمپ کے انتخاب کے بعد سے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ٹرمپ نے تہران کے ساتھ طے پائے جانے والے نیوکلیئر معاہدے کی سخت مذمت کی تھی اور ایران کو "اول نمبر دہشت گرد ریاست" قرار دیا تھا۔

امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کے ساتھ موجود لڑاکا گروپ 2 کے کمانڈر ایڈمرل کینتھ واٹسل کے مطابق "ایرانی جنگی کشتیاں بین الاقوامی پانی کے وسط میں تھیں جب کہ ہم جہاز رانی کی آزادی کو استعمال کرتے ہوئے خلیج عربی کی جانب گامزن تھے جو ہمارا حق تھا"۔ ایڈمرل نے مزید بتایا کہ بعض کیمروں نے انشکاف کیا ہے کہ ایرانی کشتیوں کے اندر اسلحہ بھرا ہوا تھا اور بعض اہل کار اس کا پہرہ دے رہے تھے۔

واٹسل نے بتایا کہ "ایران کے خیال میں امریکا کے زیر قیادت قافلے نے جس میں ڈنمارک کا جنگی جہاز اور فرانس کا لڑاکا بحری جہاز شامل تھا.. ایران کی سمندری حدود کی خلاف ورزی کی ہے جب کہ ایسی کوئی بات نہیں تھی"۔