.

لندن : زخمی پولیس اہل کار کو بچانے کی کوشش کرنے والا دلیر وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لندن حملے کے واقعے کے دوران برطانوی پارلیمنٹ کے ایک رکن کی جانب سے انسان دوستی کی اعلی اقدار کا مظاہرہ سامنے آیا۔ تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ کی عمارت کے سامنے برطانوی پولیس کے ایک اہل کار کو چھرے سے زخمی کیے جانے بعد مذکورہ رکن فوری طور پر اس اہل کار کے پاس پہنچا اور اُس کے منہ پر اپنا منہ رکھ کر مصنوعی تنفس کے ذریعے موت کے منہ میں جانے سے بچانے کی بھرپور کوشش کرتا رہا۔ تاہم پولیس اہل کار جانبر نہ ہو سکا۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو حاصل ہونے والی تصویر میں امور خارجہ کے وزیر اور برطانوی دار العوام کے رکن ٹوبیاس ایلوُڈ پولیس اہل کار کے فوت ہوجانے پر انتہائی رنجیدہ حالت میں نظر آ رہے ہیں۔ ایلوُڈ نے اپنے طور مصنوعی تنفس کے ذریعے اس پولیس اہل کار کی مدد کی ہر ممکن کوشش کی تاہم ان کی یہ کاوش اسے موت کے منہ میں جانے سے نہ بچا سکی۔

حیرت انگیز اتفاقی امر ہے کہ ایلوُڈ کا بھائی جان 2012 میں انڈونیشیا کے جزیرہ بالی میں ہونے والے دہشت گرد دھماکوں میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا.. اور اب وہ خود اس دہشت گرد حملے کے عینی شاہد بن گئے۔ برطانوی وزیر کے مطابق حملہ آور نے پولیس اہل کار پر چھرے کے 4 یا 5 وار کیے۔

مقامی میڈیا کے مطابق ایلوُڈ نے واقعے کے بعد ایک گھنٹہ جائے حادثہ پر اُن ڈاکٹروں کے ساتھ گزارا جو پولیس اہل کار کی جان بچانے کی کوشش کر رہے تھے اور اُس کے دم توڑنے تک ایلوُڈ اسی جگہ موجود رہے۔

سوشل میڈیا پر برطانوی حلقوں نے وزیر ایلوُڈ کو "ہیرو" قرار دیا۔ ایک ایسے وقت میں جب پولیس حملہ آور کی جانب فائرنگ کر رہی تھی ایلوُڈ نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر زخمی پولیس اہل کار کی زندگی بچانے کی کوشش کی۔ جائے مقام پر لی جانے والی تصویر میں ایلوُڈ کی پیشانی پر خون کے دھبّے بھے نظر آرہے ہیں۔

جنوبی انگلینڈ کے شہر بورنموتھ سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ اور وزیر ٹوبیاس ایلوُڈ برطانوی فوج کے سابق اہل کار ہیں۔