.

’لندن میں دہشت گردی منظم منصوبہ بندی کے تحت کی گئی‘

دہشت گرد پارلیمنٹ پرحملہ کرنا چاہتے تھے: تھریسا مے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے لندن میں پارلیمنٹ کے قریب فائرنگ کے واقعے کے نتیجے میں پانچ افراد کے ہلاک اور درجنوں کے زخمی ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لندن میں خونی واردات باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کی گئی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لندن میں فائرنگ اور گاڑی تلے روندے جانے کے واقعے کے رد عمل میں اپنی پہلی پریس کانفرنس میں تھریسا مےنے کہا کہ لندن واقعے سے ان کی حکومت کی دہشت گردی کے خلاف جنگ متاثر نہیں ہوگی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوت سے جاری رکھی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ لندن میں اندھا دھند فائرنگ کسی ہواس باختہ شخص کی کارروائی نہیں اور نہ ہی یہ کوئی غیر ارادی فعل تھا بلکہ یہ منظم دہشت گردی ہے جس کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

تھریسا مے نےلندن میں دہشت گردی کو پارلیمنٹ پر حملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد کا ہدف پارلیمنٹ ہاؤس تھا۔

مے نے شہریوں کو یقین دلایا کہ حکومت دہشت گردی پر قابو پانے میں ہرممکن اقدامات کرے گی اور آج حالات معمول پر آجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خطرات کے باوجود خطرے کی سطح تبدیل نہیں کی جائے گی۔

ٹن ڈاؤننگ اسٹریٹ میں وزیراعظم ہاؤس کے باہر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تھریسا مے نے کہا کہ برطانیہ میں دہشت گردی کے خطرے کی سطح تبدیل نہیں کی جائے گی۔

ادھر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں دارالعوام اور دارالامراء نے کہا ہے کہ آج جمعرات کو ان کے اجلاس معمول کے مطابق جاری رہیں گے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز برطانوی دارالحکومت لندن میں پارلیمان کے باہر دہشت گردی کے ایک مبیّنہ حملے میں چار افراد ہلاک اور کم سے کم بیس زخمی ہوگئے ہیں جبکہ پولیس نے ایک حملہ آور کو گولی مار دی ہے۔

برطانوی پولیس نے بتایا ہے کہ مشتبہ حملہ آور نے پہلے ایک پولیس افسر کو چاقو گھونپ دیا تھا اور پھر پارلیمان کے باہر راہگیروں پر کار چڑھادی تھی۔اس واقعے کے فوری بعد لندن کے قلب میں واقع پارلیمان کی عمارت کو سیل کردیا گیا۔ پارلیمان کے ارکان اور عملہ کو عمارت کے اندر ہی رہنے کی ہدایت کی گئی۔

برطانوی دارالعوام کے لیڈر آف دا ہاؤس ڈیوڈ لڈنگٹن نے ایوان کو بتایا کہ انھوں نے فائرنگ کی آوازیں سنی ہیں اور نزدیک واقع پُل کے آس پاس دس سے زیادہ افراد پُراسرار طور پر زخمی ہوگئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ پہلے ایک پولیس افسر کو چاقو گھونپا گیا اور اس کے بعد مسلح پولیس نے مشتبہ حملہ آور کو گولی مار دی ہے۔ اس کے علاوہ ویسٹ منسٹر محل کے احاطے میں تشدد کے مزید واقعات کی بھی اطلاع ملی ہے۔