.

‘انفرادی دہشت گردی‘،القاعدہ اور داعش کی حکمت عملی میں مماثلت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی پارلیمنٹ کے باہر دیائے ٹیمزپر بنے ویسٹ منسٹر پل پر خالد مسعود نامی ایک 52 سالہ دہشت گرد کی اپنی کارکے ذریعے دہشت گردی کی مجرمانہ واردات کےبعد دہشت گردوں کے خلاف عوامی غم وغصے میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ داعش کا یہ آوارہ بھیڑیا کوئی پہلا دہشت گرد نہیں جس نے گاڑی تلے معصوم شہریوں کو روند کر ان کی جان لینے کی جسارت کی ہو۔ ماضی میں یہی چلن القاعدہ کے ہاں بھی دیکھا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے داعش اور القاعدہ کے شدت پسندوں کی گاڑیوں تلے شہریوں کو کچلنے کی وارداتوں کےدرمیان پائی جانے والی مماثلت پر روشنی ڈالی ہے۔

رپورٹ کے مطابق قبول اسلام سے قبل خالد مسعود کا ’اینڈرین راسل‘ تھا۔ پیشے کے اعتبار سے وہ اسکول میں استاد بھی رہ چکا ہے۔ اس کے تین بچے ہیں۔ داعش اور القاعدہ کا یہ طریقہ واردات کافی حد تک ایک دوسرے سے مماثلت رکھتا ہے کہ دونوں تنظیمیں دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے ’انفرادی‘ نوعیت کے شدت پسندوں کو استعمال کرتی ہیں۔ امریکا اور یورپ میں بھی ایسی کارروائیاں ہوتی رہی ہیں۔ دونوں گروپوں کے درمیان تنظیمی طریقہ کار میں اختلاف کے باوجود نظریاتی اعتبار سے القاعدہ اور داعش ایک ہی سکے کے دو رخ سمجھی جاتی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اپنی رپورٹ میں دہشت گرد گروپوں کے اس پہلو پر روشنی ڈالی کہ انتہا پسند تنظیمیں جن پر ’انفرادی بھیڑیوں‘ کی اصطلاح کا اطلاق ہوتا ہے کی تزویراتی حقیقت کیا ہے؟ نیز کیا ان گروپوں سے وابستہ عناصر صرف انفرادی دہشت گردانہ کارروائیاں کرتے ہیں یا ان کا کوئی اور بھی کردار ہوتا ہے۔

برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق حال ہی میں اپنی ایک انفرادی دہشت گردانہ کارروائی کے نتیجے میں برطانیہ کو ہلا کر رکھ دینے والے خالد مسعود نامی شدت پسند نے کچھ عرصہ ایک اسکول میں انگریزی کے استاد کے طور پر کام کیا۔ اس کی پرورش ساحلی علاقے میں ایک ایسے فلیٹ میں ہوئی جس کی قیمت تین لاکھ پاؤنڈ بتائی جاتی ہے۔

انٹیلی جنس معلومات

برطانوی انٹیلی جنس اداروں نے 27 فروری دہشت گردی کے خطرے سے خبردار کیا جس کے بعد برطانیہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خطرے کی سطح بڑھا دی تھی۔ گذشتہ روز برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے بھی اعتراف کیا تھا کہ خفیہ اداروں کو دہشت گردی کی کارروائیوں کے بارے میں ٹھوس معلومات تھیں۔

برطانوی انسداد دہشت گردی یونٹ کے سربراہ مارک رولی نے بھی اعتراف کیا کہ انہیں دہشت گردی کے خطرے کا اندازہ تھا مگر یہ اندازہ نہیں تھا کہ دہشت گرد اس طرح کی انفرادی نوعیت کی کارروائی کا ارتکاب کریں گے۔

خالد مسعود کی انتہا پسندی کی تاریخ

سابقہ معلم داعشی شدت پسند خالد مسعود کے بارے میں برطانوی انٹیلی جنس حکام پہلے سے واقف تھے۔ وزیراعظم تھریسا مے کا کہنا ہے کہ خفیہ اداروں کو مسعود کے دہشت گردوں کے ساتھ رابطوں کا علم تھا۔ امریکی حکومت کے ذمہ دار ذریعے نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ خالد مسعود دہشت گردوں سے رابطے میں رہا ہے تاہم اس نے بیرون ملک سفر نہیں کیا۔

سنہ 2003ء میں مسعود نے ایک شخص پر چاقو سے حملہ کرکے اسے شدید زخمی کردیا جس پر اسے جیل کی ہوا کھانا پڑی تھی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جیل جانے سے قبل خالد مسعود انتہا پسندانہ نظریات کا مالک نہیں تھا۔ تاہم جیل میں اس کی ملاقات کچھ دوسرے عناصر کے ساتھ ہوئی۔ یوں جیل نے اس کی زندگی کو بدل دیا۔

خالد مسعود جیل سے رہائی کے بعد کچھ عرصے سے برمنگھم میں رہائش پذیر تھا۔ اس نے برطانوی پارلیمنٹ کے قریب ویسٹ منسٹر پل پر ’ہونڈا‘ کمپنی کی جس کار سے شہریوں کو کچلا وہ 13 مارچ کو کرائے پر لی تھی۔ اس کارروائی کے بعد شدت پسند گروپ ’داعش‘ کی طرف سے یہ اعلان سامنے آیا کہ خالد مسعود اس کا جنگجو ہے۔

انفرادی کارروائیوں کا قائد

برطانیہ میں ویسٹ منسٹر پل پر ایک داعشی دہشت گرد کی انفرادی دہشت گردی نے ماضی میں اس طرح کی کئی دوسری کارروائیوں کی یاد تازہ کردی۔ اگرچہ دہشت گردی کی انفرادی کارروائیوں میں کوئی ایک شدت پسند ہی استعمال ہوتا ہے مگر اسے براہ راست تنظیم کی طرف سے ہدایات مل رہی ہوتی ہیں۔

اسی ضمن میں 22 اگست 2015ء کو ابو انس الاندلسی نامی شدت پسند کی انفرادی کارروائیوں کے بعد داعش نے اسے محمد مراح کا لقب دینے کے ساتھ ساتھ دعویٰ کیا کہ وہ انفرادی کارروائیوں کا قائد ہے۔

الاندلسی نے فرانس کے شہر تولوز میں 11 مارچ 2012ء کو دہشت گردی کی ایک کارروائی میں گھات لگا کر ایک نوجوان کو قتل کیا۔ اسی ماہ کی پندرہ تاریخ کو مونٹبان کے مقام پر فوج لباس میں ملبوس تین فرانسیسی فوجیوں کو ہلاک کیا۔ اس کے چار روز بعد ایک استاد اور اس کے تین بچوں کو قتل کرکے ان کی تصاویر اور ویڈیوز بنائی گئیں جنہیں انٹرنیٹ پر مشتہر کیا گیا۔

حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو مراح بھی کوئی انفرادی دہشت گرد نہیں بلکہ ’جند الخلیفہ‘ نامی ایک تنظیم سے وابستہ رہ چکا تھا۔ اس نے سنہ 2011 میں پاکستان اور افغانستان کا بھی سفر کیا۔ وہ القاعدہ اور طالبان کے بھی قریب رہا۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے شمال مغربی پاکستانی علاقوں اور افغانستان میں شدت پسند گروپوں کے ہاں عسکری تربیت حاصل کی۔

انفرادی بھیڑیوں کی حکمت عملی کا آغاز

القاعدہ کی جانب سے انفرادی دہشت گردی کی کارروائیوں کے حوالے سے ابو مصعب السوری نامی ایک جنگجو کی کتاب اہمیت کی حال ہے جس میں اس نے ایک پورا باب ’انفرادی جہاد‘ کے عنوان سے تحریر کیا ہے۔ اس نے اس نے القاعدہ کی انفرادی مزاحمتی کارروائیوں پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ تنظیم کی پالیسی واضح کی ہے اور کہا ہے کہ القاعدہ سے وابستہ ہر جنگجو تنہا سپاہی نہیں بلکہ وہ بمنزلہ ایک فوج کے ہے۔ جس نے القاعدہ کے ساتھ وفاداری کا اعلان کیا ہے وہ لامرکزیت کے اصول کے بجائے جہاں موجود ہے وہاں اپنی کارروائیوں کا آغاز کرسکتا ہے۔

سنہ 2014ء میں داعش کے ترجمان ابو محمد العدنانی نے ایک ریکارڈڈ صوتی بیان جاری کیا جس میں اس نے داعش کے وفاداروں کو ہدایت کی کہ وہ تنظیم کو کچلنے میں سرگرم اتحادی ممالک کے عام لوگوں کو بھی دستیاب وسائل کے ذریعے حملوں کا نشانہ بنائیں۔

سنہ 2014ء کو داعشی خلیفہ ابو بکر البغدادی نے بھی اپنی ایک تقریر میں’انفرادی جہاد‘ کی اصطلاح کا استعمال کیا۔ اس نے سعودی عرب میں اہل تشیع کو نشانہ بنانے کی ہدایت کی۔

داعش کے آن لائن پروپیگنڈہ اخبار‘دابق‘ نے جولائی 2016ء کو ’انفرادی بھیڑیے‘ کے عنوان سے ایک تفصیلی مضمون شائع کیا۔ اس میں بھی داعش کے ترجمان ابو محمد العدنانی کا وہ بیان شامل تھا جس میں اس نے جنگجوؤں کو ہدایت کی تھی کہ وہ مغربی ممالک کے مفادات اور عوام پر بھی حملے کریں۔

القاعدہ کے نزدیک امن و سلامتی

القاعدہ کی طرح داعشی جنگجوؤں نے بھی انفرادی دہشت گردی کی حمایت میں لٹریچر تیار کیا۔’امن و سلامتی‘ کے عنوان سے ایک داعشی نے تنظیم پالیسی پر روشنی ڈالی جس میں اس نے ’انفرادی بھیڑے‘ کی اصطلاح استعمال کی۔ اسی طرح القاعدہ سے وابستہ ایک جنگجو نے اپنے پندو نصائح مرتب کیے تو اس اس میں بھی ’The Lone Wolf‘[تنہا بھیڑیا] کی اصطلاح استعمال کی۔ اس میں داعشی جنگجو نے دہشت گردوں کو نصیحت کی کہ وہ سیکیورٹی اداروں کی نظروں سے بچ کر رہا کریں اور انتہائی محتاط انداز میں قدم اٹھائیں۔

اس کتاب میں القاعدہ جنگجو نے شدت پسندوں کو ہدایت کی کہ وہ مغربی معاشروں میں رہتے ہوئے اپنی انفرادی شناخت نہ بنائیں۔ داڑھیاں منڈوا دیں اور مغربی لباس زیب تن کریں اور شراب سے تیار کردہ عطریات کا استعمال کریں۔

خود کو سیکیورٹی داروں کی نظروں سے اوجھل رکھنے کے لیے باقاعدگی سے مسجد میں بھی نماز کے لیے نہ جائیں۔ اگر کسی دوسرے ملک میں جانا ہو تو ایک عام سیاح کے روپ میں رہیں۔ ایسا لباس یا چال ڈھال اختیار نہ کریں جس سے آپ پر شبہ کیا جاسکے۔