.

شمالی کوریا کے " آمر" کی پیٹھ پر جھپٹنے والا پراسرار شخص !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزشتہ ہفتے شمالی کوریا نے ایک نیا "میزائل تجربہ" کیا اور اس موقع ملک کے سربراہ کِم جونگ اُن کی تصاویر بھی جاری کیں جن میں کوریائی رہ نما بھرپور انداز سے اپنی خوشی کا اظہار کرتے نظر آ رہے ہیں۔

شمالی کوریا کا یہ آمر اپنے فوجی جنرلوں کے درمیان ہنستا اور تالیاں بجاتا موجود تھا کہ اچانک ایک عسکری اہل کار خوشی کے مارے آ کر کم جونگ کی پیٹھ پر چڑھ گیا۔ آخر آمر پر چھلانگ لگانے کی جرات کون کر سکتا تھا۔

بہرکیف کِم جونگ نے بھی اس عسکری اہل کار کو خوشی کے موڈ میں اپنی پیٹھ پر اٹھائے رکھا جس کے بارے میں کئی ذرائع ابلاغ نے عندیہ دیا کہ مذکورہ اہل کار نے ممکنہ طور پر اس تجربے میں فعال کردار ادا کیا ہو۔

ادھر "برطانوی نشریاتی ادارے" کے ریڈیو نے امریکا میں ہوپکِنز یونی ورسٹی کے پروفیسر مائیکل میڈن کے حوالے سے بتایا ہے کہ تصویر میں نظر آنے والے عسکری اہل کار کی وردی سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ درمیانے درجے کے منصب کا حامل اہل کار ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ تصویر جعلی ہے یا پھر اُس میڈیا "پروپیگنڈے" کا حصہ ہے جس کا سہارا " آمر" نواز مشینری لیتی ہے تاکہ ملک کے سربراہ کو لوگوں سے قریب ہو کر خوشیاں مناتے دکھایا جا سکے۔

یاد رہے کہ تصویر میں اس "خوش گوار مسرت" کا اظہار کرنے والے " آمر" کے بارے میں یہ باتیں پھیلی ہوئی ہیں کہ اس نے دنیا کی عجیب ترین اموات کے احکامات جاری کیے۔ مثلا اس نے گزشتہ برس وزیر تعلیم کو موت کے گھاٹ اس لیے اتار دیا کہ مذکورہ وزیر کو ایک اجلاس کے اونگھ یا پھر نیند آ گئی تھی۔ جنوبی کوریا میں جاری ہونے والی اس میڈیا رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ آیا جس اجلاس میں وزیر تعلیم کو نیند آئی تھی اس میں کم جونگ شریک تھا یا نہیں۔

علاوہ ازیں شمالی کوریا کے اس آمر نے وزیر دفاع ہیون یونگ چول کو طیارہ شکن میزائل کے ذریعے موت کی نیند سلانے کا حکم دیا جس کے نتیجے میں مذکورہ وزیر نہ صرف جان سے ہاتھ دھو بیٹھا بلکہ اس کے جسم کے چیتھڑے اڑ گئے۔ یہ موت کا پروانہ اس لیے جاری کیا گیا تھا کہ وزیر دفاع ایک فوجی پریڈ کے دوران سو گیا تھا جہاں سربراہ کم جونگ اُن بھی موجود تھا۔