.

ایردوآن کے خلاف احتجاجی مظاہرے پر سوئس سفیر کی دفترخارجہ طلبی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوئٹرزلینڈ کے دارالحکومت برن میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے بعد انقرہ وزارت خارجہ نے نائب سوئس سفیرکو طلب کرکے شدید احتجاج کیا ہے۔

ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے’اناطولیہ‘ کے مطابق سوئٹرزلینڈ کے دارالحکومت میں کوئی اڑھائی سو افراد نے صدر ایردوآن کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا۔ احتجاج کرنے والوں میں کالعدم تنظیم کردستان ورکرز پارٹی کے حامی بھی شامل تھے۔ مظاہرین نے ترکی کے دستور میں ترامیم اور آئندہ ماہ صدر کو وسیع تر اختیارات فراہم کرنے لیے ہونے والے آئینی ریفرنڈم کی بھی مخالفت کی۔

ترک صدر طیب ایردوآن نے ملک میں صدارتی نظام کے لیے ہونے والے ریفرنڈم کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ ریفرنڈم ہرصورت میں ہوگا۔ دستور پر ہونے والا ریفرنڈم ترکی کے مستقبل کی سمت کا تعین کرے گا۔ جس کے بعد ہم یہ فیصلہ کریں گے کہ ہمیں یورپ کے ساتھ چلنا ہے یا نہیں۔

خیال رہے کہ ترکی کے علاوہ امریکا اور یورپی یونین بھی علاحدگی پسند کرد تنظیم کردستان ورکرز پارٹی کو دہشت گرد قرار دے کر اس پر پابندیاں عاید کرچکے ہیں۔

گذشتہ کچھ عرصے سے ترکی اور اس کے یورپی اتحادیوں کےدرمیان سخت تناؤ پایا جا رہا ہے۔ترک حکومت کا شکوہ ہے کہ یورپی ممالک صدر ایردوآن کی حمایت میں ریلیوں کے انعقاد پر پابندیاں عاید کررہے ہیں۔

گذشتہ دنوں ترکی اور ہالینڈ کےدرمیان کشیدگی اپنے نقطہ عروج تک پہنچ گئی تھی۔ کشیدگی کے بعد دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے ہاں تعینات اپنے سفیر واپس بلا لیے تھے۔ دونوں ملکوں میں کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب ہالینڈ کی حکومت نے صدر ایرودآن کی حمایت میں ریلی کے انعقاد پر پابندی لگانے کے ساتھ ساتھ ترک وزیرخارجہ کو اس میں شرکت کے لیے آنے سے روک دیا تھا۔

جرمنی اور ترکی کے درمیان بھی الفاظ کی جنگ کافی شدت اختیار کرچکی ہے اور دونوں حکومتیں ایک دوسرے پر مسائل کو الجھانے کا الزام عاید کررہی ہیں۔ ترک صدر طیب ایردوآن نے جرمنی کونازیوں کی باقیات قرار دیا ہے۔