.

بھارت : ریاست گجرات میں ہندو،مسلم تصادم ، 2 ہلاک ،14 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات میں ہندو اور مسلم طلبہ میں معمولی ہاتھا پائی سے شروع ہونے والے تصادم کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہوگئے ہیں۔

بھارتی اخبار دا ہندو کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ گجرات کے ضلع پٹن میں واقع ایک گاؤں وڈا ولی میں ہفتے کے روز پیش آیا تھا۔زخمیوں کو پٹن شہر کے اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔

اس ضلع کے اعلیٰ انتظامی افسر کے کے نرالا نے بتایا ہے کہ قریباً پانچ ہزار افراد کے ہجوم نے گاؤں کے مسلم مکینوں کے گھروں پر دھاوا بول دیا تھا اور انھوں نے قریباً تیس مکانوں اور دسیوں گاڑیوں کو نذرآتش کردیا تھا۔انھوں نے یہ حملہ بعض ہندو طلبہ کی اس شکایت کے ردعمل میں کیا تھا کہ ان سے مسلم طلبہ نے ناروا سلوک کیا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ ہندو بلوائیوں کے مقابلے میں مسلمانوں نے پتھراؤ کیا جبکہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے اور تشدد پر قابو پانے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے اور سات گولیاں چلائی ہیں۔ تشدد کا یہ سلسلہ کوئی ایک گھنٹے تک جاری رہا تھا اور پھر اس پر قابو پا لیا گیا تھا۔

ضلع پٹن کے ایک سینیر پولیس افسر نے ایک سوال کے جواب میں اخبار کو بتایا ہے کہ یہ تمام فساد امتحان کے بعد ہندو اور مسلم طلبہ کے درمیان معمولی جھگڑے سے شروع ہوا تھا۔اب ہم اس معاملے کی تحقیقات کررہے ہیں کہ دو مختلف کمیونٹیوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کے درمیان معمولی چپقلش سے تشدد کا اتنا بڑا واقعہ کیسے رونما ہوگیا ہے۔

یادرہے کہ ریاست گجرات میں ہندو مسلم فسادات کی ایک تاریخ ہے۔ سنہ 2002ء میں اس ریاست میں بدترین مسلم کش فسادات ہوئے تھے اور مختلف تخمینوں کے مطابق تشدد کے واقعات میں ایک ہزار کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔مہلوکین میں زیادہ تر مسلمان تھے اور انھیں ہندو بلوائیوں اور مسلح جتھوں نے بڑی بے دردی سے قتل کردیا تھا۔اس کی علاوہ ان کی املاک ،مکانوں اور دکانوں وغیرہ کو بھی نذر آتش کردیا گیا تھا۔

اس وقت نریندر مودی ریاست کے وزیراعلیٰ تھے۔ناقدین نے ان بدترین ہندو مسلم فسادات کے دوران آنکھیں موند لینے اور ہندو بلوائیوں کو نہ روکنے کا الزام عاید کیا تھا جبکہ انھوں نے ریاست میں تشدد کے واقعات میں کسی طرح ملوّث ہونے سے انکار کیا تھا۔ 2013ء میں بھارتی عدالتِ عظمیٰ کے مقرر کردہ ایک پینل نے قراردیا تھا کہ نریندر مودی کے خلاف گجرات میں فسادات کے الزام میں مقدمہ چلانے کے لیے کافی شواہد موجود نہیں ہیں اور اس نے انھیں اس معاملے سے بری الذمہ قرار دے دیا تھا۔