.

نوروز پر ایران کے نام ٹرمپ کے تہنیتی خط کی عبارت میں کاٹ چھانٹ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے معاونین کو ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد وہ پہلی مرتبہ ایرانی عوام کو جشن نوروز کے موقع پر مبارک باد پیش کرنے کا ارادہ کریں گے تو یہ کتنا دشوار ہو جائے گا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے وائٹ ہاؤس کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پانچ پیروں پر مشتمل تہنیتی خط کو پانچ بار تحریر کیا گیا۔ اس کی بنیادی وجہ تہنیتی پیغام کے متن بالخصوص ایرانی حکومت کو مخاطب کرنے کے طریق کار کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے مشیروں کے درمیان پایا جانے والا اختلاف تھا۔

سابقہ امریکی حکومتیں بالخصوص باراک اوباما کے دور میں ایرانی حکومت کو مبارک باد پیش کیا کرتی تھیں اور اسے ایرانی عوام کی نمائندہ کے طور پر مخاطب کیا کرتی تھیں۔ ساتھ ہی امریکا کی جانب سے امن اور دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات کی امید کا اظہار بھی کیا جاتا تھا۔ تاہم ٹرمپ کے اقتدار میں آںے کے بعد دونوں ممالک کے ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے آنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔

اخبار کے مطابق پہلے تو وائٹ ہاؤس کے کرتا دھرتا عناصر نے مبارک باد کا پیغام نہ بھیجنے کے لیے پورا زور لگا دیا۔ جب انھیں اس میں ناکامی کا منھ دیکھنا پڑا تو تہنیتی پیغام کا متن تیار کرنے والوں کی جانب سے ہر ممکن کوشش کی گئی کہ کوئی بھی ایسی عبارت شامل نہ کی جائے جس سے کسی طور بھی " پُر امن بقائے باہمی " کا عندیہ ملتا ہو۔ ٹرمپ کے متعدد مشیروں اور نئی امریکی انتظامیہ کے مطابق ایرانی حکومت اس نوعیت کے انداز تخاطب کی مستحق ںہیں کیوں کہ وہ خطے اور دنیا بھر میں دہشت گردی کو سپورٹ کر رہی ہے۔

اگرچہ ٹرمپ کے خط کے متن میں ایرانیوں کی تاریخ اور تہذیب کو سراہا گیا تھا۔تاہم اس میں ایرانی حکام کے ہاتھوں مذہبی اقلیتوں کو درپیش مسائل کو کڑی نکتہ چینی کا نشانہ بنایا گیا۔ سابق صدر اوباما کی جانب سے ایرانیوں کے نئے سال کے آغاز نوروز کے موقع پر لکھے جانے والے مجموعی آٹھ خطوط میں اس امر کو نظر انداز کیا جاتا رہا تھا۔

نیویارک ٹائمز نے وائٹ ہاؤس کے ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ امریکا کی قومی سلامتی کے مشیر جنرل میک میسٹر تہنیت کے اس پہلے پیغام کی تائید کر رہے تھے جب کہ ٹرمپ انتظامیہ میں سینئر تزویراتی منصوبہ ساز اسٹیفن بینن خط کے متن میں ترامیم کروانے میں کامیاب رہے ہیں۔