.

ایران کا امریکی فوج کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی ذمے داران اور ارکان پارلیمنٹ نے نئے امریکی قانون کے منصوبے پر آگ اگلنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

امریکی ارکان کے کانگریس کی جانب سے تیار کردہ قانون کا متن ہر اُس شخص پر پابندی عائد کرتا ہے جس کا ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام سے تعلق ہو اور جو ان کے ساتھ معاملہ کرتا ہو۔ اس کے علاوہ پابندیوں میں ایرانی پاسداران انقلاب کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

ایرانی صدر کے نائبِ اوّل اسحاق جہانگیری نے عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکی قانون کے ذریعے ایرانی نیوکلیئر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو تہران پوری طاقت سے جواب دے گا۔

ایرانی ردِّ عمل بیانات تک موقوف نہیں رہا بلکہ ساتھ ہی ایک قرار داد کے منصوبے کا بھی اعلان کیا گیا ہے جس کے ذریعے امریکی فوج اور انٹیلی جنس کو دہشت گردی کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ ایرانی پارلیمنٹ کی جانب سے ہنگامی طور پر اس قرارداد کے منصوبے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایرانی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کی کمیٹی کے سربراہ علاء الدین بروجردی کے اُن الزامات کے بعد سامنے آئی ہے جن میں بروجردی نے کہا تھا کہ امریکی فوج متعدد ممالک میں دہشت گرد جماعتوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔ بروجردی نے امریکی فوج اور انٹیلی جنس کو ریاستی دہشت گرد تنظیموں کا مکمل نمونہ قرار دیا۔