.

پناہ گزینوں کے معاملے میں ایران اور ترکی میں کشیدگی

ترکی کا ایران پر تین ملین پناہ گزین دھکیلنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی اور ایران کے درمیان پناہ گزینوں کی آمد ورفت کے معاملے میں تازہ کشیدگی سامنے آئی ہے۔ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر پناہ گزینوں کو داخل کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے ایک بیان میں ترک حکام پر تہران کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کا الزام عاید کیا ہے۔ ایرانی حکومت کے ترجمان نے ترک حکومت کے ایک عہدیدار کے اس بیان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران لاکھوں پناہ گزینوں کو ترکی میں دھکیل رہا ہے۔

خیال رہے کہ ترک وزیراعظم کے معاون ویسی کائناک نے ’ترک سی این این’ سے بات کرتے ہوئے تین ملین پناہ گزین جن میں اکثریت افغان پناہ گزینوں کی شامل ہےایران کے راستے ترکی میں داخل ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ترک عہدیدار کے اس بیان کو بے بنیاد اور ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف قرار دیا۔

قبل ازیں ترک عہدیدار نے کہا تھا کہ انہیں مصدقہ ذرائع سے اطلاعات ملی ہیں کہ ایران سے 30 لاکھ کے قریب پناہ گزینوں کو ترکی دھکیلنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ ان غیر رجسٹرڈ مہاجرین میں بیشتر کا تعلق افغانستان سے ہے۔

ویسی کائناک نے ایران کی طرف سے مبینہ طور پرپناہ گزینوں کو ترکی میں دھکیلنے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ تہران نے ان پناہ گزینوں کو بنیادی سہولیات فراہم نہیں کیں اور نہ ہی ان کی مدد کی ہے۔ اب یہ لوگ مغرب جانے کے لیے ترکی داخل ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔

ترکی اور ایران کے درمیان شام کے معاملے پر بھی باہمی الزام تراشی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ترکی ایران پر شام میں کشیدگی کو ہوا دینے اور صدر بشارالاسد کی آمریت کی بقاء میں مدد کرنے کا الزام عاید کرتا ہے۔ چند ہفتے پیشتر ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی ایرانی ہم منصب حسن روحانی کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بعد دونوں میں پائی جانی والی سرد جنگ کی حدت میں کچھ کمی آئی تھی۔ گذشتہ دس سال کے دوران ایران اور ترکی کے صدور کی پہلی باضابطہ ملاقات تھی۔