.

یمن : فوج کی کارروائی میں القاعدہ کا سینیر لیڈر تین ساتھیوں سمیت گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے جنوب مشرقی علاقے حضرموت میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے تحت سرکاری فوجیوں نے منگل کو علی الصباح ایک چھاپا مار کارروائی میں جنگجو گروپ ’’جزیرہ نما عرب میں القاعدہ‘‘ کے ایک سینیر لیڈر سمیت چار مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

ایک سکیورٹی عہدہ دار نے بتایا ہے کہ خصوصی فورسز نے حضر موت میں واقع ایک دور دراز گاؤں میں یہ چھاپا مار کارروائی کی ہے،وہاں القاعدہ کا لیڈر ابو علی السیاری اپنے ساتھیوں سمیت چھپا ہوا تھا۔فوجیوں کے ساتھ جھڑپ میں دو مشتبہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور ابو علی السیاری کے علاوہ تین اور مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا القاعدہ کی یمنی شاخ کو دنیا میں سب سے خطرناک جنگجو گروپ قرار دیتا رہا ہے۔ القاعدہ کے جنگجوؤں نے یمن میں 2015ء میں چھڑنے والی خانہ جنگی کا فائدہ اٹھایا تھا اور ملک کے بعض جنوبی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

لیکن سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کی یمن میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کی بحالی کے لیے جنگی مہم کے آغاز کے بعد سے وہ اپنے زیر قبضہ بہت سے علاقوں سے بے دخل ہوچکے ہیں اور اب ان کا بہت تھوڑے علاقوں پر کنٹرول باقی رہ گیا ہے لیکن وہ اس کے باوجود سرکاری فوجیوں اور تنصیبات کو اپنے حملوں میں ہدف بناتے رہتے ہیں۔

سعودی اتحاد کے علاوہ امریکا بھی یمن میں ڈرون حملوں میں القاعدہ کے جنگجوؤں کو نشانہ بناتا رہتا ہے جبکہ گذشتہ ماہ امریکی کمانڈوز نے القاعدہ کے بعض سرکردہ جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کے لیے پہلی مرتبہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے چھاپا مار کارروائی کی تھی۔