.

روس اور شامی حزب اختلاف میں جنگ بندی کو مؤثر بنانے پراتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوئس شہر جنیوا میں شام میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں شریک شامی حزب اختلاف کے وفد نے روس کے نائب وزیر خارجہ سے بات چیت کی ہے اور انھوں نے ملک میں جاری جزوی جنگ بندی کو مؤثر اور مضبوط بنانے سے اتفاق کیا ہے۔

شامی حزب اختلاف کے وفد نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی اور شامیوں کی در بدری ایسے دو فیصلہ کن عوامل ہیں جو ان کے روس کے ساتھ مذاکرات پر اثر انداز ہورہے ہیں۔

روسی نائب وزیر خارجہ گیناڈی گیٹیلوف نے اس بات پر زوردیا ہے کہ جنگ بندی بہ ہ صورت برقرار رکھی جانی چاہیے۔انھوں نے شام میں اثر ورسوخ رکھنے والے بیرونی فریقوں پر بھی زوردیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں اور تعاون کریں۔

اس ملاقات کے بعد شامی حزب اختلاف کے ترجمان سالم المسلط کا کہنا تھا:’’انھوں نے روس کو مطلع کردیا ہے کہ شامی حکومت کو شہریوں کے خلاف حملوں سے روکنے کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے جارہے ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ شامی حزب اختلاف کا وفد جنیوا مذاکرات میں بھرپور طریقے اور سنجیدگی سے شریک ہے لیکن شامی حکومت ایک تعاون کرنے والے شراکت دار کا کردار ادا نہیں کررہی ہے۔

تاہم شام امن مذاکرات کے اس دور کے بارے میں مغربی سفارت کار کوئی زیادہ پر امید نظر نہیں آتے ہیں۔ایک مغربی سفارت کار نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر شامی فریقوں میں حقیقی مذاکرات نہیں ہوتے ہیں تو انھیں ان میں کوئی پیش رفت بھی ہوتی نظر نہیں آتی ہے۔