.

امریکا کے بعد فرانس بھی بشارالاسد کے سیاسی مستقبل پر متذبذب

بشارالاسد کے مستقبل پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں:پیرس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں کئی سال سے عوام کے قتل عام میں ملوث صدر بشار الاسد کے سیاسی مستقبل کے بارے میں امریکا کی طرف سے سامنے آنے والے ایک متنازع موقف کے بعد فرانس بھی صدر اسد کے مستقبل کے حوالے سے دو ٹوک پالیسی اختیار کرنے میں ناکام رہا ہے۔

دو روز پیشتر اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے کہا تھا کہ صدر بشارالاسد کو اقتدار سے ہٹانا ان کی ترجیح نہیں ہے۔ گذشتہ روز ایسا ہی ایک بیان فرانسیسی وزیر خارجہ جان مارک ایرولٹ کی طرف سے سامنے آیا جنہوں نے کہا کہ شام کے بحران کے حل کے اور بھی بہت سے پہلو ہیں، صرف بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے پر ساری توجہ مرکوز نہیں کی جانی چاہیے۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما کی انتظامیہ نے بشارالاسد کے بارے میں جو اصولی موقف اختیار کیا تھا صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے انحراف کر رہی ہے۔ امریکی خاتون سفیر کا کہنا تھا کہ بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانا ان کے ملک کی ترجیح نہیں ہے۔ شامی اپوزیشن کی طرف سے امریکی حکومت کا نیا موقف مسترد کر دیا گیا ہے۔

قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے کہا تھا کہ بشارالاسد کےسیاسی مستقبل کا فیصلہ شامی عوام ہی کو کرنا ہے۔

امریکی سینیٹر جان مکین نے حکومتی موقف پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ شامی عوام کو آزادانہ فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں۔ صدر بشار الاسد گذشتہ چھ سال سے عوام کو ذبح کر رہے ہیں۔ اس لیے اب ان کا ملک کے سیاسی مستقبل میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔

اب ایسا ہی بیان فرانسیسی وزیر خارجہ کی طرف سے سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ساری توانائیاں صدر بشارالاسد کو اقتدار سے ہٹانے اور ملک کے سیاسی مستقبل میں ان کے کردار کو تسلیم نہ کرنے پر صرف نہیں ہونی چاہئیں۔