.

دنیا بھر میں 10 کروڑ سے زاید افراد فاقہ کشی کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے اشتراک سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں بھوک اور غربت میں غیرمعمولی اضافہ ہواہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ برس 10 کروڑ سے زاید افراد فاقہ کشی کا شکار ہوچکے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جمعہ کے روز جاری کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خانہ جنگی، ماحولیاتی مسائل اور غذائی اجناس کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے باعث فاقہ کشی میں اضافہ ہوا۔ گذشتہ برس کے آخر میں 108 ملین افراد فاقہ کشی کا شکار ہیں۔

یہ تعداد سال 2015ء کے اعدادو شمارکی نسبت 35 فی صد زیادہ ہیں۔ دو ہزار پندرہ میں 80 ملین افراد بھوک کا شکار تھے۔

رپورٹ میں ماہرین کا کہنا ہےکہ غذائی عدم تحفظ انسانی بقاء کے لیے خطرہ ہے۔ غذاؤں کی قلت میں مسلسل اضافے اور لوگوں کی پہنچ سے دور ہونے کے نتیجے میں بھوک اور فاقہ کشی میں اضافہ ہوا ہے۔ ماحولیاتی مسائل، قحط، خشک سالی اور دیگر قدرتی آفات کے باعث لوگ اپنے مال مویشی ذبح کرنے پر مجبور ہیں۔

خشک سالی اور خوراک کی قلت کے اعبتار سے افریقی خطہ پوری دنیا میں سرفہرست ہے۔ جنوبی سوڈان، صومالیہ، یمن اور شمال مشرقی نائیجیریا بھوک و افلاس کی وجہ سے سر فہرست ہیں۔

دنیا بھرمیں بھوک اور فاقہ کشی کے اعدادو شمار جمع کرنے میں اقوام متحدہ کے ادارے ’یو ایس ایڈ‘ کو یورپی یونین اور بعض دوسرے اداروں کا تعاون بھی حاصل رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2017ء میں بھی بھوک اور افلاس کا موجب بننے والے 9 بڑے بحران موجود ہیں۔ ان میں مختلف ملکوں میں جاری خانہ جنگی، موسمی حالات، اچانک بارشیں، خشک سالی اور نینو طوفان جیسے مظاہر بھوک کا باعث بنیں گے۔

عراق اور شام میں جاری خانہ جنگی، پڑوسی ملکوں میں ھجرت کرنے والے پناہ گزینوں، مالاوی اور زیمبابوے میں خوراک کا عدم تحفظ فاقہ کشی میں اضافہ کرے گا۔