.

فیس بک پر مخالف حلقوں کے خلاف حوثیوں کی "معائنہ کچہریاں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی دارالحکومت صنعاء میں باخبر ذرائع نے باور کرایا ہے کہ باغی حوثی ملیشیاؤں نے کئی غیر اعلانیہ فیصلے کیے ہیں جن کا مقصد سوشل میڈیا پر سرگرم حلقوں کے خلاف کریک ڈاؤن ہے۔

ملیشیاؤں کی جانب سے صنعاء اور زیر قبضہ دیگر علاقوں میں علاقوں میں اپنے مخالف تمام ٹی وی اور ریڈیو چینلوں اور اخبارات کی سرگرمیاں روک دینے کے بعد اب حوثیوں کو سوشل میڈیا کے محاذ کا سامنا ہے۔

حالیہ عرصے میں یہ سوشل میڈیا باغیوں کے لیے پریشانی اور تنگی کا ذریعہ بن چکا ہے جہاں روزانہ کی جانے والی پوسٹیں اور ٹوئیٹس باغی ملیشیاؤں کی پامالیوں اور بدعنوانیوں کا پول کھول دیتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق حوثی ملیشیا نے سرکاری اداروں اور ان کے باہر اپنے پیروکاروں کی ٹیمیں بنائی ہیں جن کی ذمے داری فیس بک، ٹویٹر اور واٹس ایپ پر حوثیوں کے خلاف جاری مواد کی نگرانی اور اس پر نظر رکھنا ہے۔

ذرائع کے مطابق ہر وزارت اور سرکاری ادارے میں ایک ٹیم نامزد کی گئی ہے جس کو ملازمین کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے اور اُن افراد کے ناموں کی فہرست تیار کرنے کے ذمے داری سونپی گئی ہے جو حوثیوں کی بدعنوانی، مظالم اور جرائم کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں تاکہ ان افراد کو "غدار" قرار دیا جا سکے۔ اس کے علاوہ دیگر ٹیمیں مخصوص صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور قانون دانوں کا جائزہ لے رہی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کریک ڈاؤن کے ذیل میں "اُن متوازی کچہریوں کا قیام بھی شامل ہے جو قرونِ وسطی میں یورپ میں نمودار ہونے والی تفتیشی کچہریوں سے مماثلت رکھتی ہیں۔ حوثیوں کی ان کچہریوں کا مقصد مخالف موقف رکھنے والے افراد کو گرفتار کر کے انہیں جیلوں میں بھرنے کے بعد ان پر غداری اور ایجنٹ ہونے کی فرد جرم عائد کرنا ہے"۔

باغیوں کے سرغنہ عبدالملک الحوثی نے چند روز قبل "عدلیہ اور نگرانی کرنے والے اداروں کے متحرک ہونے پر" زور دیا تھا۔