.

مصر: گرجا گھروں کی مسماری کی ترغیب پرمبنی 3 ہزار فتوے

مسلمانوں اورعیسائیوں کو باہم لڑانے کی سازش ہو رہی ہے: مفتی اعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے مفتی اعظم ڈاکٹر شوقی علام نے انکشاف کیا ہے کہ مصری دارالافتاء نے ملک میں عیسائیوں کی عبادت گاہوں پر حملوں کی ترغیب پر مبنی تین ہزار فتوے جاری کیے جا چکے ہیں۔

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شوقی علام نے کہا کہ ’بشری تنوع مشیت ایزدی ہے مگر عقائد کے اختلاف کی بنیاد پر نفرت پھیلانے کا کوئی جواز نہیں۔ اسلام انسانوں کے درمیان بقائے باہمی کے اصول پر زور دیتا اور نفرت کو مسترد کرتا ہے‘۔

خیال رہے کہ مصر میں گذشتہ کچھ عرصے کے دوران عیسائیوں کی عبادت گاہوں کو حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ سال 2016ء کے دوران مصر میں گرجا گھروں پر متعدد حملے کیے گئے۔ ان میں سب سے خوفناک حملہ قاہرہ کے العباسیہ کے علاقے میں واقعے المرقسیہ کیتھڈرل چرچ میں حملہ ہے جس میں کم سے کم 25 افراد ہلاک اور 31 زخمی ہو گئے تھے۔

مصر کے مفتی اعظم کا کہنا ہے کہ انسان دشمن عناصر مصر میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو آپس میں دست وگریباں کرنا چاہتے ہیں مگر ان کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔

ڈاکٹر شوقی علام نے کہا کہ مسلمانوں نے فتووحات کے بعد کبھی کسی مخالف مذہب کے مذہبی مراکز کو تباہ نہیں کیا۔ قاہرہ اور الجیزہ میں موجود عیسائیوں کی قدیم عبادت گاہوں کا جوں کا توں رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلمان فاتحین نے عیسائیوں کو ہر ممکن تحفظ فراہم کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک تازہ تحقیق میں پتا چلا ہے کہ ملک میں عیسائی برادری کے گرجا گھروں پر حملوں کی ترغیب پر مبنی 3 ہزار فتوے موجود ہیں۔ ان میں 90 فی صد فتوے انتہا پسند گروپوں کی طرف سے جاری کردہ ہیں۔